سابق انگلینڈ کرکٹر مارک بوچر نے کہا ہے کہ پاکستان نے ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیل کر ایک ذہین حکمت عملی اپنائی۔ بوچر کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے لیے مالی اور اسٹریٹیجک لحاظ سے اہم ہے اور اس سے بھارت کو بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امارات نے ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے لیے اسکواڈ کا اعلان کر دیا
بوچر نے یہ بات ’سٹک ٹو کرکٹ‘ پوڈ کاسٹ میں کہی، جس میں ڈیوڈ لائیڈ، مائیکل ووگن، فل ٹفنل اور السٹیر کک بھی موجود تھے۔ انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے پاکستان اور بنگلہ دیش کے معاملے میں مختلف رویوں پر تنقید بھی کی۔
بوچر کے مطابق پاکستان نے واقعی زبردست چال کھیلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ٹورنامنٹ میں شامل رہنا چاہتے ہیں، لیکن بھارت کے خلاف نہیں کھیلیں گے۔ یہی پاکستان کے پاس اس صورتحال میں ایک اکلوتا ہتھیار ہے۔ بھارت کے لیے یہ ایک بحران ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کا میچ کرکٹ کی دنیا کا سب سے زیادہ منافع بخش مقابلہ ہے، اسی لیے دونوں ٹیمیں ہمیشہ ایک گروپ میں رکھی جاتی ہیں۔
بوچر نے ICC کے فیصلوں میں تضاد پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ دیگر ٹیمیں گروپ میں آنے کے لیے کوالیفائی کرتی ہیں، مگر یہ دونوں ٹیمیں صرف پیسے کی وجہ سے خصوصی سلوک پاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایشیا کپ: بھارت میں پاک انڈیا میچ کے بائیکاٹ کا مطالبہ زور پکڑ گیا
مائیکل ووگن نے بھی اس مؤقف کی حمایت کی اور کہا کہ کیا ایک ہی اصول سب پر لاگو ہوتا ہے؟ بھارت پہلے پاکستان میں کھیلنے سے انکار کر چکا ہے اور انہیں نیوٹرل وینیو دیا گیا، جبکہ بنگلہ دیش کو وہ سہولت نہیں ملی۔ اسی وجہ سے پاکستان یہ قدم اٹھا رہا ہے۔
یہ تبصرے ایسے وقت میں آئے ہیں جب پاکستانی حکومت نے گروپ مرحلے میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کی تصدیق کی، جو وزیر اعظم شہباز شریف اور PCB چیئرمین محسن نقوی کے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا۔ اس اقدام کی وجہ ICC کی ڈبل اسٹینڈرڈ پالیسی بتائی گئی، خاص طور پر بنگلہ دیش کے سکیورٹی خدشات کے معاملے میں۔













