امریکا کے سینیٹرز نے ایک اہم قانون متعارف کرایا ہے جس کا مقصد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑھتی ہوئی جعلی اشتہارات کی لہر کو روکنا ہے۔ اس قانون کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں پر یہ لازم ہوگا کہ وہ اس قسم کی سرگرمیوں کے خلاف “معقول اقدامات” کریں، ورنہ فیڈرل ٹریڈ کمیشن (ایف ٹی سی) قانونی کارروائی کرسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی میں اشتہارات دکھانے کا اعلان
امریکی ریاست اوہائیو سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر مورینو نے کہا، ’ہم یہ نہیں دیکھ سکتے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے کاروباری ماڈلز جان بوجھ کر امریکی عوام کو نشانہ بنانے والے اسکیمز کو فروغ دیتے رہیں۔‘
اس قانون کی حمایت امریکی بینکرز ایسوسی ایشن اور صارفین کے حقوق کے اداروں نے بھی کی ہے، اس اقدام کے تحت اشتہاردینے والوں کے لیے حکومت کی جانب سے جاری شناختی کارڈ یا کاروبار کے قانونی اسٹیٹس کی تصدیق لازمی قرار دی گئی ہے۔
یہ قانون ایسے متعدد رپورٹس کے بعد پیش کیا گیا ہے جن میں انفرادی صارفین اور حکومتی اداروں دونوں کو ہدف بناتے ہوئے اسکیمز کی نشاندہی کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: میٹا نے تھریڈز پر اشتہارات شروع کرنے کا اعلان کردیا، مونیٹائز کی جانب اہم قدم
یہ قانون ایسے وقت میں آیا ہے جب میٹا نے عالمی سطح پر ریگولیٹرز کی جانب سے سوشل میڈیا اسکیمز کے خلاف اقدامات کو تسلیم کیا ہے۔
تاہم حال ہی میں سامنے آنے والے اندرونی دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ میٹا نے ایک عالمی ’ریگولیٹری پلے بک‘ تیار کی تھی جس کا مقصد اشتہاردینے والوں کی تصدیقی ضروریات کو سست یا کمزور کرنا تھا تاکہ آمدنی کو تحفظ دیا جاسکے۔
میٹا کے ترجمان کے مطابق یہ تصدیقی اقدامات ’کامل حل‘ نہیں ہیں اور کمپنی ریگولیٹرز کے ساتھ مل کراسکیمز کے خلاف کام کررہی ہے، میٹا کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات اس کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں تاکہ پلیٹ فارمز پر جعلی سرگرمیوں کو کم کیا جاسکے۔














