بلوچستان کی صوبائی سیاست ایک بار پھر ہلچل کا شکار ہو گئی ہے، جہاں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر زراعت اور صدرِ مملکت کے فوکل پرسن میر علی حسن زہری نے صوبائی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ منگل کی شب انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو ارسال کیا، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔
استعفے کی وجوہات
استعفیٰ کے متن میں میر علی حسن زہری نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ محکمہ زراعت کو مطلوبہ وقت اور توجہ نہیں دے پا رہے تھے، اسی لیے انہوں نے یہ فیصلہ کیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے اختلافات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حلقے اور محکمے میں بے جا مداخلت کی جا رہی تھی، جس کی وجہ سے انہوں نے احتجاجاً استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں:وزیر زراعت بلوچستان علی حسن زہری عہدے سے مستعفی
میر علی حسن زہری کا کہنا تھا کہ جب منتخب نمائندے کو اپنے حلقے میں کام کرنے کا اختیار نہ دیا جائے اور انتظامی معاملات میں مسلسل مداخلت ہو تو ایسے حالات میں کابینہ کا حصہ رہنا محض رسمی عمل بن جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ ذاتی نہیں بلکہ اصولی بنیادوں پر کیا گیا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا اس معاملے پر صدرِ مملکت کو اعتماد میں لیا گیا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ پارٹی قیادت کو استعفیٰ سے آگاہ کر دیا گیا ہے، تاہم صدرِ مملکت کا منصب ان چھوٹے صوبائی معاملات سے کہیں بڑا ہے، اس لیے ان سے مداخلت کی کوئی درخواست نہیں کی گئی۔
حکومت اور پارٹی کا ردعمل
دوسری جانب اس معاملے پر معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس استعفیٰ پر کوئی باضابطہ مؤقف نہیں دے رہی اور یہ میر علی حسن زہری کا ذاتی فیصلہ ہے۔

ادھر پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے اندرونی ذرائع اس معاملے کو اختلافات کے بجائے سیاسی دباؤ کی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق میر علی حسن زہری وزیراعلیٰ بلوچستان سے محکمہ آبپاشی (ایریگیشن) کا قلمدان حاصل کرنے کے خواہاں تھے اور استعفیٰ اسی پریشر گیم کا حصہ تھا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پیپلز پارٹی بلوچستان کے تمام اراکین اسمبلی متحد ہیں اور پارٹی میں کسی قسم کے اختلافات موجود نہیں۔
ماضی کے تناظر میں استعفیٰ
یہ پہلا موقع نہیں کہ پیپلز پارٹی بلوچستان کو اندرونی ناراضگیوں کا سامنا ہو۔ ماضی میں سابق صوبائی وزیر لیاقت لہڑی بھی پارٹی قیادت اور صوبائی حکومت سے اختلافات کے باعث ناراضی کا اظہار کر کے ہیں۔ اگرچہ اُس وقت بھی پارٹی قیادت نے اختلافات کی تردید کی تھی، تاہم بعد ازاں سیاسی صف بندی میں واضح تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔
یہ بھی پڑھیں:آصف علی زرداری وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ناراض، ملاقات سے انکار
سیاسی تجزیہ نگاروں کا مؤقف ہے کہ میر علی حسن زہری کا استعفیٰ بظاہر ایک انتظامی فیصلہ دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے پس منظر میں اختیارات، وزارتوں کی تقسیم اور حلقہ جاتی سیاست کے عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

بلوچستان میں کابینہ کے ارکان کی ناراضگیاں اکثر وقتی قرار دی جاتی ہیں، مگر یہ ناراضگیاں حکومت کی کمزور ہم آہنگی اور طاقت کے عدم توازن کی نشاندہی ضرور کرتی ہیں۔
آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا یہ استعفیٰ محض دباؤ کی سیاست تھا یا پیپلز پارٹی بلوچستان کے اندر ایک اور سنجیدہ دراڑ کا آغاز۔













