قازقستان نے پاکستان سے 50 ہزار ٹن آلو درآمد کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آلو کی پیداوار: پاکستان 10 بڑے ممالک میں شامل ہوگیا
وزارتِ تجارت کے مطابق یہ پیش رفت وزیراعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر کے درمیان حالیہ گفتگو کے بعد سامنے آئی ہے۔
وزارت تجارت نے بتایا ہے کہ آلو کی برآمد کے لیے اپریل سے جون 2026 تک کی ٹائم لائن طے کر لی گئی ہے جس کے تحت پاکستانی برآمد کنندگان قازقستانی درآمد کنندگان کو معیاری آلو کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔
بیان کے مطابق اس مقصد کے لیے دونوں ممالک کے متعلقہ حکام کے درمیان تکنیکی اور تجارتی امور پر مشاورت بھی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ برآمدی عمل کو مؤثر اور بروقت بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیے: رمضان میں آلو قیمہ کٹلیٹس کیسے بنائیں؟
وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زرعی شعبے بالخصوص آلو کی پیداوار میں برآمدی استعداد موجود ہے جبکہ قازقستان کی جانب سے بڑی مقدار میں آلو درآمد کرنے میں دلچسپی پاکستانی کسانوں اور برآمدی شعبے کے لیے خوش آئند پیشرفت ہے۔
مزید پڑھیں: آلو اور ٹماٹر یک جان دو قالب، یہ رشتہ کتنے ہزار برس پہلے بنا تھا؟
وزارت کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف زرعی برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ کسانوں کی آمدنی اور ملکی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔














