وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (DHA) کے مشترکہ رہائشی منصوبے ’مارگلہ انکلیو‘ میں تعمیراتی کاموں کے دوران پہلی عالمی جنگ میں حصہ لینے والے فوجیوں کی خدمات کے اعتراف میں بنائی گئی یادگار کو محفوظ انداز میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے برعکس یادگار مسمار نہیں کی گئی بلکہ قانونی اور ماہر آثار قدیمہ کی نگرانی میں اسے نئے مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ تاریخی حیثیت برقرار رہے اور ساتھ ہی رہائشی منصوبے کی ترقی بھی ممکن ہو۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد میں یادگارِ اقبال
یادگار کے اردگرد ایک چھوٹا پارک نما علاقہ بنایا جا رہا ہے تاکہ اسے محفوظ رکھنے کے اقدامات کیے جا سکیں۔ یادگار پر فوجیوں کے نام اور ان کی خدمات درج ہیں، اور اس کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر اسے قومی ورثہ کے طور پر محفوظ بنایا جا رہا ہے۔

ریٹائرڈ فوجی افسران بشمول میجر جنرل علی حامد نے بھی متعلقہ حکام اور وزارت قومی ورثہ کو خطوط لکھ کر یادگار کو محفوظ بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان سے قبل پوٹھوہار کے علاقوں میں کئی یادگاریں تعمیر کی گئی تھیں جو فوجیوں کی خدمات کے اعتراف میں بنائی گئی تھیں، اور یہ یادگار بھی ان میں سے ایک ہے۔

مزید پڑھیں: آسٹریلیا میں چور گاندھی کا مجسمہ لے اُڑے، پاؤں چھوڑ گئے
سی ڈی اے کے ترجمان نے بتایا کہ یادگار کی حفاظت اور محفوظ منتقلی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں اور یادگار کی اصل حیثیت برقرار رکھی جائے گی۔ ماہرین آثار قدیمہ اور حکومت کے اعلیٰ حکام بھی اس منتقلی کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ یادگار کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت برقرار رہے اور رہائشی منصوبے کی ترقی بھی متاثر نہ ہو۔












