ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بنگلہ دیش میں 12 فروری کو ہونے والے قومی انتخابات سے قبل فیس بک پر جعلی ری ایکشنز، بالخصوص ’ہاہا‘ ایموجی، کے ذریعے سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے اور عوامی تاثر کو متاثر کرنے کے لیے بوٹس اور کلک فارمز کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا۔
ڈھاکا سے شائع ہونے والے اخبار دی ڈیلی اسٹار کی رپورٹ کے مطابق مختلف سیاسی دھڑوں سے منسلک منظم نیٹ ورکس نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے پوسٹس پر تمسخر آمیز ری ایکشنز کی بھرمار کی، جس کا مقصد مواد کی رسائی کم کرنا، مخالفت کا مصنوعی تاثر پیدا کرنا اور بعض حلقوں میں حمایت کو بڑھا چڑھا کر دکھانا تھا۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈکپ تنازع: بنگلہ دیش نے پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا
تحقیق میں بتایا گیا کہ سیاسی نوعیت کی حساس پوسٹس پر آنے والے قریباً ہر 5 میں سے ایک ’ہاہا‘ ری ایکشن مشکوک یا جعلی پروفائلز سے آیا، جن میں سے کئی اکاؤنٹس پر ذاتی معلومات موجود نہیں تھیں، غیر ملکی نام استعمال کیے گئے تھے اور سرگرمی کے نمونے خودکار نظام کی نشاندہی کرتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم 4 ایسے منظم گروپس کی نشاندہی کی گئی جو مختلف سیاسی جماعتوں، جماعتِ اسلامی، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور سابق حکمراں عوامی لیگ کے حامیوں سے منسلک تھے۔ ان گروپس نے حریف جماعتوں، صحافیوں اور میڈیا اداروں کی پوسٹس پر اجتماعی طور پر ’ہاہا‘ ری ایکشنز ڈال کر فیس بک کے الگورتھم کا فائدہ اٹھایا، جس سے نشانہ بنائے گئے مواد کی رسائی متاثر ہوئی۔
تحقیق میں ایک فعال آن لائن مارکیٹ کا بھی انکشاف ہوا جہاں موبائل ادائیگیوں کے ذریعے کم قیمت پر جعلی ری ایکشنز، فالوورز اور انگیجمنٹ خریدی جا سکتی ہے۔ متعدد کلک فارمز نے کھلے عام ایسی خدمات کی تشہیر کی، جبکہ بوٹ اکاؤنٹس بنگلہ دیش کے علاوہ ویتنام، تھائی لینڈ اور پاکستان میں موجود سرورز سے منسلک پائے گئے۔
رپورٹ کے مطابق سینکڑوں بوٹ اکاؤنٹس کم از کم 6 انتخابی امیدواروں کی مقبولیت بڑھانے کے لیے بھی استعمال ہوئے، اور بعض مواقع پر وہی بوٹس مختلف اور مخالف سیاسی صفحات پر سرگرم نظر آئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سرگرمیاں نظریاتی کے بجائے تجارتی بنیادوں پر کی جا رہی تھیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کا ’محفوظ اور انسان دوست بنگلہ دیش‘ کے لیے 26 نکاتی انتخابی منشور جاری
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کی ڈیجیٹل ہیرا پھیری انتخابی شفافیت کے لیے سنگین خطرہ ہے کیونکہ اس سے مصنوعی بیانیے تشکیل پاتے ہیں اور عوامی رائے گمراہ ہوتی ہے۔ اگرچہ فیس بک کی مالک کمپنی میٹا مصنوعی انگیجمنٹ پر پابندی عائد کرتی ہے، تاہم رپورٹ کے مطابق اس پر مؤثر عملدرآمد تاحال ناکافی ہے۔ میٹا نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
دریں اثنا، بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے انتخابات سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے اضافی حفاظتی اقدامات کی درخواست کی ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق مربوط غلط معلومات اور ڈیجیٹل ہراسانی بدستور ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔













