خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے کا عزم، صوبائی ایپکس کمیٹی کا جامع لائحہ عمل طے

جمعرات 5 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی کے تناظر میں صوبائی حکومت نے امن و استحکام کے لیے فیصلہ کن اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کے اہم اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا اور صوبے میں پائیدار امن کے لیے سیاسی قیادت، وفاقی حکومت، سول انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں، اسلام آباد اور وانا حملوں کا ایسا جواب دیں گے کہ دنیا دیکھے گی، خواجہ آصف

اعلامیے کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزرا، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس سمیت اعلیٰ سول، فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے آغاز میں مختلف واقعات میں شہید ہونے والے عام شہریوں، سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

اجلاس میں مجموعی طور پر صوبے میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات، ملک دشمن عناصر کے خاتمے اور مکمل امن و استحکام کے لیے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ فورم نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف جامع پالیسی کی کامیابی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں، عوامی نمائندوں، معززین اور وفاقی حکومت کے درمیان مشاورت، تعاون اور عملی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

ایپکس کمیٹی نے واضح کیا کہ حکومت خیبر پختونخوا فوج، پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں سمیت اپنے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے دہشتگردی کے خلاف بھرپور کارروائی کرے گی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ طویل المدتی حکمت عملی کے تحت دہشتگردی کے محرکات کی نشاندہی، ان کا خاتمہ اور عوامی اعتماد کی بحالی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ حکومت اور عوام مل کر ملکی سلامتی اور ترقی کو یقینی بنا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی نے رات گئے اڈیالہ جیل کے باہر سے دھرنا ختم کیوں کیا؟

حکومت کا ایجنڈا بہتر طرزِ حکمرانی اور عوامی مفاد کے ذریعے قوم کو دہشتگردی کے خلاف متحد کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے پہلے مرحلے میں دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں کو ماڈل گڈ گورننس اضلاع میں تبدیل کیا جائے گا اور ترقیاتی، سماجی اور معاشی خدمات کی فراہمی کے ذریعے محرومیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔

اعلامیے کے مطابق ایک منظم پروگرام کے تحت ان علاقوں میں سیکیورٹی، مواصلات، صحت، تعلیم، روزگار اور بنیادی سہولیات کے لیے خصوصی پیکج دیا جائے گا۔ اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ جن علاقوں سے عارضی نقل مکانی کی گئی ہے، وہاں متاثرہ افراد کی مکمل دیکھ بھال، بحالی اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ ان کی باعزت واپسی حکومت کی اولین ترجیح ہوگی۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اجلاس میں واضح کیا کہ امن صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کے قیام کے لیے سول حکومت، انتظامیہ، پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک پیج پر ہیں اور مشترکہ کوششوں سے ہی اس جنگ کو جیتا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کی سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

ایپسٹین کی موت کی وجہ خودکشی کے بجائے قتل ہے، پوسٹ مارٹم کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر کا دعویٰ

ٹی20 ورلڈ کپ: بھارت میں پاکستانی اسپنر کا خوف، سابق کرکٹر نے اپنی ٹیم کو اہم مشورہ دیدیا

محمد یونس کی طارق رحمان کو مبارکباد، بی این پی کی جیت کو تاریخی قرار دیا

امریکا میں مقیم سکھ رہنما گرپتونت سنگھ کے قتل کی سازش، بھارتی شہری نے اعتراف کرلیا

ویڈیو

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟