ایران کے چیف آف اسٹاف نے اعلان کیا ہے کہ ملک نے اپنے بیلسٹک میزائلوں کو تکنیکی طور پر اپ گریڈ کر لیا ہے اور اپنی فوجی حکمت عملی کو دفاعی سے جارحانہ میں تبدیل کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بیلسٹک میزائل ایران کی شاندار دفاعی قوت، جانیے ان ہتھیاروں کی اصل صلاحیتیں
یہ قدم اس تناؤ کے درمیان سامنے آیا ہے جب امریکا نے مشرق وسطیٰ میں کیریئر اسٹریک گروپ تعینات کر کے ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پیشرفت سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ اور ممکنہ تنازع کے خطرات بڑھ گئے ہیں، جبکہ روس نے مشرق وسطیٰ کو ’بارود کا ڈبّا‘ قرار دے کر خبردار کیا ہے۔

بدھ کو زیرِ زمین اسلامی انقلاب گارڈز کور (IRGC) کے میزائل مرکز کا دورہ کرتے ہوئے میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے کہا کہ تمام تکنیکی پہلوؤں میں بیلسٹک میزائل اپ گریڈ کرنے سے ایران نے اپنی دفاعی طاقت کو مضبوط کیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ حکمت عملی جون 2025 میں بارہ روزہ جنگ کے بعد اپنائی گئی، جب امریکی اور اسرائیلی فورسز نے ایرانی جوہری سائٹس پر حملے کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو خفیہ ڈیڈ لائن دینے کا دعویٰ، امریکی میزائل بردار بحری جہاز ایلات پہنچ گیا
میجر جنرل موسوی نے مزید کہا کہ ہم نے اپنی فوجی حکمت عملی کو دفاعی سے جارحانہ میں بدل دیا ہے، غیر متناسب جنگ کی پالیسی اور دشمنوں کے خلاف سخت جواب اپنایا گیا ہے۔ یہ اعلان امریکی فوجی تعیناتی کے تناظر میں آیا، جس میں USS Abraham Lincoln کیریئر اسٹریک گروپ اور اضافی فضائی دفاعی نظام شامل ہیں، اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممکنہ کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں فوری جواب دیا جائے گا، جس میں کوئی امریکی محفوظ نہیں رہے گا، اور اس سے پورے خطے میں جنگ کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے اس صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ ’بارود کے ڈبے کی مانند ہے‘ اور کسی بھی غلط قدم سے پورے خطے میں تنازع شروع ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ اور ایران مذاکرات کی طرف آئیں تو روس تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اگر امریکہ مذاکراتی ماحول میں آئے تو ایران بات چیت کے لیے تیار ہے، اور جمعہ کو عمان میں ایرانی اور امریکی سفارتکاروں کے درمیان جوہری پروگرام پر پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ ہوگا، جو اپریل کے بعد پہلی ملاقات ہے۔












