ترکیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی ٹی (MIT) نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں 2 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ترک سرکاری خبر رساں ادارے اناطولو ایجنسی کے مطابق گرفتار افراد پر موساد کو ایسی معلومات فراہم کرنے کا الزام ہے جن کی بنیاد پر اسرائیلی ایجنسی نے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔
گرفتار ملزمان کون ہیں؟
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار افراد کی شناخت محمد بودک دریّا اور ویسل کریم اوغلو کے نام سے ہوئی ہے، جنہیں استنبول سے حراست میں لیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان طویل عرصے سے ترکیہ کی خفیہ ایجنسی کی نظر میں تھے۔
موساد سے رابطے کی ابتدا
تحقیقات کے مطابق محمد بودک دریّا، جو پیشے کے لحاظ سے کان کنی کے انجینئر ہیں، پہلی بار 2005 میں موساد کی توجہ کا مرکز بنے جب انہوں نے ترکیہ کے جنوبی ساحلی شہر مرسین کے قریب سنگِ مرمر کی کان قائم کی اور بیرونِ ملک تجارت شروع کی۔
ذرائع کے مطابق 2012 میں ایک شخص علی احمد یاسین کے ذریعے ان سے رابطہ کیا گیا، جو ایک اسرائیلی شیل کمپنی چلا رہا تھا۔ 2013 میں یاسین نے دریّا کو یورپ میں ایک کاروباری ملاقات کی دعوت دی، جہاں مبینہ طور پر ان کی موساد کے ایجنٹس سے پہلی ملاقات ہوئی۔
فلسطینی نژاد ترک شہری کا کردار
تحقیقات میں بتایا گیا کہ اسی ملاقات میں موساد ایجنٹس نے دریّا کو ایک فلسطینی نژاد ترک شہری ویسل کریم اوغلو کو ملازم رکھنے کا مشورہ دیا۔ بعد ازاں دونوں کے درمیان دوستی ہوئی اور مبینہ طور پر موساد کے لیے معلومات فراہم کرنے کا سلسلہ شروع ہوا، جبکہ کریم اوغلو کی تنخواہ بھی موساد ادا کرتا رہا۔
فلسطینیوں سے روابط اور حساس معلومات کی ترسیل
ذرائع کے مطابق دریّا نے کریم اوغلو کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی سرگرمیاں بڑھائیں اور ان فلسطینی افراد سے سماجی و تجارتی روابط قائم کیے جو اسرائیلی پالیسیوں کے مخالف تھے۔ الزام ہے کہ ان افراد کے بارے میں حساس معلومات موساد کو فراہم کی جاتی رہیں۔
اس کے علاوہ دونوں ملزمان پر غزہ میں حاصل کیے جانے والے مقامات کی تکنیکی تفصیلات اور تصاویر موساد کو بھیجنے کا بھی الزام ہے۔
ڈرون پارٹس اور حماس انجینئر سے رابطہ
تحقیقات کے مطابق 2016 کے اوائل میں کریم اوغلو نے دریّا کو ڈرون کے پرزے فراہم کرنے کی تجویز دی، جس کے بعد دریّا نے محمد الزواری سے رابطہ کیا۔ الزواری ایک انجینئر تھے جو فلسطینی تنظیم حماس کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی پر کام کر رہے تھے۔
محمد الزواری کو دسمبر 2016 میں تیونس کے شہر صفاقس میں ان کی گاڑی میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا، جس کا الزام موساد پر عائد کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں تیونسی عدالت نے اس قتل کے مقدمے میں 18 افراد کو غیر موجودگی میں سزا سنائی۔
خفیہ رابطے اور شیل کمپنیوں کا منصوبہ
ذرائع کے مطابق محمد بودک دریّا نے موساد کو تکنیکی معلومات فراہم کرنے کے لیے انکرپٹڈ کمیونیکیشن سسٹم استعمال کیا اور 2016 اور 2024 میں دو مرتبہ لائی ڈیٹیکٹر ٹیسٹ بھی دیے۔
یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ دریّا ایک ایسی کمپنی قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا جو ایشیا میں موجود 3 شیل کمپنیوں کی نگرانی کرتی، جن کا مقصد موساد کے زیرِ نظر خریداروں کو فراہم کی جانے والی مصنوعات کے اصل ماخذ کو چھپانا تھا۔ یہ منصوبہ مبینہ طور پر جنوری میں ہونے والی آخری ملاقات میں تفصیل سے زیرِ بحث آیا تھا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دونوں گرفتار ملزمان سے اس وقت پولیس تفتیش جاری ہے اور امکان ہے کہ مزید گرفتاریاں یا انکشافات سامنے آئیں گے۔














