بسنت نے معیشت میں نئی جان ڈال دی

جمعہ 6 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور میں بسنت کی واپسی نے شہر کو ایک بار پھر رنگوں، روشنیوں اور خوشیوں سے بھر دیا ہے۔ برسوں بعد منعقد ہونے والے اس تہوار نے نہ صرف شہریوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دی ہیں بلکہ مقامی معیشت کو بھی واضح سہارا ملا ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے شہر کے مختلف علاقوں میں پتنگوں اور ڈور کی خرید و فروخت عروج پر ہے، جبکہ تاریخی موچی گیٹ ایک بار پھر بسنت سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھین: چھتوں پر پتنگیں، میدانوں کے ہیروز بھی بسنت کے دیوانے

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران لاہور کے شہریوں خالد اور ان کے 27 سالہ کزن نعمان طارق نے تقریباً 200 پتنگیں خریدیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے صرف ایک ہفتے میں پتنگوں اور ڈور پر کم از کم 5 لاکھ روپے خرچ کیے ہیں۔ وہ ان ہزاروں شہریوں میں شامل ہیں جو برسوں بعد اس تہوار کے دوبارہ انعقاد پر خوشی سے سرشار ہیں۔

بسنت، جو موسم بہار کی آمد کی علامت سمجھا جاتا ہے، ماضی میں پنجاب کے دونوں حصوں میں جوش و خروش سے منایا جاتا رہا ہے۔ تاہم 2007 میں پتنگ ڈور سے پیش آنے والے حادثات اور اموات کے بعد اس تہوار پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ تقریباً 18 برس بعد اب حکومت کی جانب سے حفاظتی انتظامات کے ساتھ بسنت کی اجازت دی گئی ہے۔

کاروباری حلقوں کے مطابق بسنت کی واپسی سے پتنگوں اور ڈور کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، اور اندازہ لگایا جارہا ہے کہ صرف ان اشیا کی فروخت سے قریب 1 ارب روپے کا کاروبار ہوچکا ہے، جبکہ مجموعی معاشی سرگرمی کئی ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بسنت کے دوران ایئرپورٹ کے ٹیک آف اور لینڈنگ ایریاز میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی

ماضی کی طرح اس بار بھی اندرون لاہور کے علاقوں میں چھتوں کی مانگ میں بے پناہ اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ بعض مقامات پر 3 دن کے لیے چھتوں کا کرایہ 15 لاکھ سے 25 لاکھ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ہوٹلوں میں بکنگ کی شرح تقریباً 95 فیصد تک جا پہنچی ہے اور فضائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ بسنت کے محفوظ انعقاد کے لیے کئی ماہ کی منصوبہ بندی کی گئی۔ نگرانی کے لیے کیمروں، ڈرونز اور ضلعی انتظامیہ کے خصوصی نظام کو فعال کیا گیا ہے، جبکہ موٹر سائیکلوں پر حفاظتی راڈز نصب کیے گئے ہیں تاکہ ڈور سے ہونے والے حادثات سے بچا جا سکے۔

دوسری جانب خریداروں کی بڑی تعداد مہنگائی اور ناقص معیار پر شکوہ کناں ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک پتنگ کی پیداواری لاگت 100 سے 150 روپے کے درمیان ہوتی ہے، مگر مارکیٹ میں قیمتیں اس سے کئی گنا زیادہ وصول کی جارہی ہیں۔ بعض خریداروں کا کہنا ہے کہ ڈور بلیک میں فروخت ہورہی ہے اور معیار بھی تسلی بخش نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور بسنت، کروڑوں روپے کی ڈور اور پتنگیں کراچی سے لاہور روانہ

اس کے باوجود شہریوں کی اکثریت بسنت کی واپسی کو خوش آئند قرار دے رہی ہے۔ ثقافتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بسنت ایک ایسا تہوار ہے جو ہر طبقے کے لوگوں کو یکجا کرتا ہے، اور حکومت کو چاہیے کہ اس کی اصل روح کو برقرار رکھتے ہوئے آئندہ بھی اسے محفوظ اور منظم انداز میں منانے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

شہریوں کو امید ہے کہ اگر یہ بسنت بغیر کسی بڑے حادثے کے مکمل ہو گئی تو مستقبل میں سال بھر محدود پیمانے پر پتنگ بازی کی اجازت بھی ممکن ہو سکے گی، جس سے نہ صرف ثقافت کو فروغ ملے گا بلکہ روزگار اور معیشت کو بھی مسلسل فائدہ پہنچے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران پر ممکنہ حملہ: برطانیہ کا امریکا کو فوجی اڈے دینے سے انکار

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو 10 سے 15 دن کی ڈیڈ لائن، معاہدہ نہ ہوا تو ’سنگین نتائج‘ کی دھمکی

غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں وزیراعظم نے فلسطینی مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا، عطا اللہ تارڑ

سعودی عرب نے سابق امریکی سینٹکام کمانڈر کو کنگ عبدالعزیز میڈل سے نواز دیا

’عمران خان رہائی فورس‘ کے قیام میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی؟

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ