بنگلہ دیش عام انتخابات: نوجوان امیدواروں کی بھرمار، پرانی سیاست کا توازن بدلنے لگا

ہفتہ 7 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش میں عوامی لیگ حکومت کے خاتمے پر منتج ہونے والی طلبہ قیادت میں چلنے والی عوامی تحریک نے نہ صرف مسابقتی انتخابات اور جمہوری انتقال کی راہ ہموار کی بلکہ ملکی سیاست میں امیدواروں کی ساخت کو بھی یکسر تبدیل کر دیا ہے۔

کئی دہائیوں بعد پہلی مرتبہ بنگلہ دیش کے انتخابی بیلٹ پر صرف معمر اور روایتی سیاستدانوں کا غلبہ نظر نہیں آ رہا، بلکہ بڑی تعداد میں نوجوان امیدوار قومی اسمبلی میں پہنچنے کی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں۔ ان میں سے اکثر وہ ہیں جو 2024 کی عوامی تحریک کے دوران سڑکوں پر متحرک رہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل بنگلہ دیش (TIB) کے ‘نو یور کینڈیڈیٹ’ پورٹل کے مطابق آئندہ انتخابات میں 25 سے 44 سال کی عمر کے امیدواروں کی شرح 27.56 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 25 سے 34 سال کے امیدوار اس سال 9.41 فیصد ہیں، جو 2024 میں 3.96 فیصد، 2018 میں 0.16 فیصد جبکہ 2014 میں صفر تھی۔ قومی یوتھ پالیسی 2017 کے تحت 18 سے 35 سال کے شہریوں کو نوجوان قرار دیا جاتا ہے۔

دوسری جانب 65 سال سے زائد عمر کے امیدواروں کی شرح نمایاں طور پر کم ہو کر 17.35 فیصد رہ گئی ہے، جو 2014 میں 66.39 فیصد تھی۔ اس کے علاوہ 1,518 امیدوار، جو کل امیدواروں کا تقریباً تین چوتھائی بنتے ہیں، پہلی بار قومی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش کے آئندہ عام انتخابات قریب، کس سیاسی جماعت کا پلڑا بھاری ہے؟

انتخابی ماہر عبدالعلیم کے مطابق جولائی کی تحریک بنیادی طور پر نوجوانوں نے لیڈ کی، اور انہوں نے ثابت کیا کہ وہ قیادت کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے ان کی قربانیوں کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں ٹکٹ دیے۔

اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ 2008 کے بعد امیدواروں کی اوسط عمر میں نمایاں کمی آئی ہے۔ 2008 میں امیدواروں کی اوسط عمر 72 سال تھی، جو اب کم ہو کر 51.8 سال رہ گئی ہے۔

ووٹروں کی آبادی میں بھی بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں نوجوان ووٹرز کل ووٹروں کا 42 فیصد سے زائد ہیں، اور یہ 2008 کے بعد پہلی مرتبہ مسابقتی انتخابات میں ووٹ ڈالیں گے۔

نئی اور پرانی سیاسی جماعتوں کے درمیان فرق نمایاں ہے۔ نئی جماعتیں نوجوانوں کو تبدیلی کی علامت بنا رہی ہیں جبکہ پرانی جماعتیں اب بھی تجربہ کار، عمر رسیدہ امیدواروں پر انحصار کر رہی ہیں۔

جولائی تحریک کے منتظمین کی جانب سے قائم کی گئی نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) پہلی بار قومی انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ پارٹی کے 32 امیدواروں میں سے 19 کی عمر 25 سے 34 سال کے درمیان ہے، جو تقریباً 60 فیصد بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے نیشنل سٹیزن پارٹی کا 24 نکاتی منشور جاری، نئے بنگلہ دیشی آئین کا وعدہ

اسی طرح گونو اودھیکار پریشد کے 90 امیدواروں میں سے 35 فیصد کی عمر 25 سے 34 اور 31 فیصد کی عمر 35 سے 44 سال کے درمیان ہے۔

اس کے برعکس، بی این پی کے 288 امیدواروں میں صرف دو 25 سے 34 سال کے ہیں، جبکہ جماعتِ اسلامی کے 224 امیدواروں میں سے صرف 3 اس عمر کے ہیں۔

نارتھ ساؤتھ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ایس کے توفیق ایم حق کے مطابق، ’جب روایتی سیاسی قیادت ناکام ہوئی تو نوجوانوں نے خلا پُر کیا۔ اب سیاسی جماعتیں اس حقیقت کو تسلیم کر رہی ہیں، خاص طور پر شہری علاقوں میں نوجوان امیدواروں کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔‘

ماہرین کے مطابق تقریباً 4 کروڑ نوجوان ووٹرز اس انتخاب میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں، جس کے باعث بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نئی نسل کے ابھرنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کی سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

ایپسٹین کی موت کی وجہ خودکشی کے بجائے قتل ہے، پوسٹ مارٹم کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر کا دعویٰ

ٹی20 ورلڈ کپ: بھارت میں پاکستانی اسپنر کا خوف، سابق کرکٹر نے اپنی ٹیم کو اہم مشورہ دیدیا

محمد یونس کی طارق رحمان کو مبارکباد، بی این پی کی جیت کو تاریخی قرار دیا

امریکا میں مقیم سکھ رہنما گرپتونت سنگھ کے قتل کی سازش، بھارتی شہری نے اعتراف کرلیا

ویڈیو

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟