اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی ایک مسجد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں 31 افراد شہید جبکہ متعدد نمازی زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
رپورٹس کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور کی شناخت کی تصدیق کر لی گئی ہے۔ مستند معلومات کے مطابق حملہ آور نے دہشت گردی کی تربیت افغانستان میں حاصل کی تھی اور وہ متعدد بار افغانستان کا سفر کر چکا تھا اور حال ہی میں افغانستان سے واپس آیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، ایک ہلاک، 3 گرفتار
افغانستان میں قائم مختلف خوارج گروہ، جو طالبان حکومت کی سرپرستی میں سرگرم ہیں، خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ حکومتی مؤقف کے مطابق پاکستان میں ہونے والے ہر دہشت گرد حملے کا کسی نہ کسی طور افغانستان اور بھارت سے تعلق پایا جاتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پوری قوم ان بزدلانہ کارروائیوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہے۔ مساجد اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے جیسے گھٹیا اور بزدلانہ حملے پاکستانی قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔














