روس کے سونے کے ذخائر کی قیمت اب پہلی بار 400 ارب ڈالر سے زیادہ ہو گئی ہے۔ ملک کے مرکزی بینک کے مطابق 1 فروری تک روس کے سونے کی کل مالیت 402.7 ارب ڈالر تھی۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کسٹمز کی کراچی ائیرپورٹ پر بڑی کارروائی، سونا اور قیمتی سامان برآمد
سونے کی یہ مالیت روس کے کل ذخائر کا تقریباً 48 فیصد بنتی ہے، جو اب تقریباً غیر ملکی کرنسی کے برابر ہو گئی ہے۔
سونے کی قیمت میں حالیہ زبردست اضافہ اس ریکارڈ کا سبب ہے۔ جنوری میں عالمی سطح پر سونے کی فی اونس قیمت 5,595 ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ 2025 میں سونے کی قیمت میں تقریباً 60 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ مرکزی بینکوں کی طلب، عالمی سیاسی کشیدگی، مہنگائی اور امریکی ڈالر کی قدر کم ہونے کی وجہ سے ہوا۔
🚨BREAKING NEWS
Russia's gold reserves have exceeded $400 billion for the first time in history, the Central Bank of Russia announced. pic.twitter.com/yIi6IMt2cI
— Aleksey Berezutski 🇷🇺🎖 (@aleksbrz11) February 6, 2026
روس کے ذخائر میں سونے کی حصہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔ یوکرین جنگ سے پہلے سونے کا حصہ 21 فیصد تھا، لیکن اب یہ 48 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ اسی دوران غیر ملکی کرنسی کی حصہ داری کم ہو کر 74 فیصد سے نیچے آ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چاندی کی بڑھتی قیمت، کیا چاندی سونے کی جگہ لے رہی ہے؟
سونے کی قیمت میں یہ اضافہ روس کو مغربی ممالک میں منجمد کیے گئے اپنے کچھ مالی نقصانات پورے کرنے میں مدد دے رہا ہے۔
مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق سونے کی اصل مقدار گزشتہ چند سالوں میں زیادہ تبدیل نہیں ہوئی۔ مارچ 2022 میں ملک کے پاس 73.9 ملین اونس سونا تھا، جو جنوری 2026 میں تھوڑا بڑھ کر 74.8 ملین اونس ہو گیا۔

روس نے 2022 کے بعد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کو سونے کے لین دین کی تفصیلات دینا بند کر دی ہیں، اور صرف کل ذخائر کی رپورٹ دیتا ہے۔ اس لیے حالیہ اضافہ زیادہ تر عالمی سونے کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے ہوا ہے، نہ کہ ذخائر کی مقدار بڑھنے کی وجہ سے۔











