امریکی محکمہ انصاف نے جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق لاکھوں نئی دستاویزات جاری کی ہیں، جس میں اب بھارت کے ارب پتی بزنس مین انیل امبانی کا نام بھی سامنے آ رہا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری ہونے والی دستاویزات کے مطابق بدنام زمانہ مالیاتی شخصیت جیفری ایپسٹین نے بھارت کے معروف بزنس مین انیل امبانی سے رابطہ کیا۔
مزید پڑھیں: شیطان نہیں ہوں، پاکستان اور انڈیا میں پولیو مہم کو فنڈز دیے تھے، جیفری ایپسٹین کا انٹرویو میں دعویٰ
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ایپسٹین اور انیل امبانی کے درمیان پیغامات کا تبادلہ 2017 سے 2019 تک جاری رہا۔ اور پیغامات میں دونوں نے عالمی امور، کاروبار اور خواتین کے بارے میں گفتگو کی، اور ذاتی ملاقات کی منصوبہ بندی کی۔
9 مارچ 2017 کے ایک پیغام میں انیل امبانی نے پوچھا: آپ کس کی تجویز کرتے ہیں؟‘
ایپسٹین کے جواب میں کہا گیا: ’ایک لمبی سویڈش سنہرے بالوں والی خاتون، ملاقات کو مزید دلچسپ بنانے کے لیے۔‘ انیل امبانی نے 20 سیکنڈ کے اندر جواب دیا کہ پھر انتظام کرو۔
دستاویزات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں نے 2017 میں پیرس میں ملاقات کی کوشش کی لیکن وقت سے نہیں مل سکے۔
جب امبانی نے مئی 2019 میں نیویارک کا ارادہ ظاہر کیا، ایپسٹین نے ملاقات کی دعوت دی اور کہاکہ کچھ لوگ ہیں جن سے خاموشی سے ملاقات کرنا ہو تو اطلاع دیں۔
پیغامات میں ایپسٹین نے امبانی سے خواتین میں ترجیحات کے بارے میں سوال کیا، جس پر انیل امبانی نے ہالی وڈ کے تعلقات کا حوالہ دیا۔
یہ پیغامات ایپسٹین کے وسیع سماجی اور کاروباری نیٹ ورک کو ظاہر کرتے ہیں، جس میں انہوں نے متعدد معروف شخصیات سے تعلقات قائم کیے۔
رپورٹس کے مطابق مئی 2019 میں ایپسٹین اور امبانی کی ملاقات کے بعد ایپسٹین نے امبانی کو پیغام بھیجا: ’آج کا دن خوشگوار رہا، آپ سے مل کر اچھا لگا۔‘
مزید پڑھیں: ایپسٹین فائلز: نواز شریف کے بجائے عمران خان کو کیوں موثر شخصیت قرار دیا گیا؟
دستاویزات کے مطابق ایپسٹین 2008 میں فلوریڈا میں نابالغوں کے لیے جسم فروشی کا اعتراف کرنے کے بعد بھی دنیا کے امیر ترین افراد تک رسائی برقرار رکھتا رہا، اور 2019 میں وفاقی جنسی استحصال کے الزامات کے تحت گرفتار ہونے کے بعد حراست میں خودکشی کی۔














