امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) نے صدر اور وزیر خارجہ سے درخواست کی ہے کہ افغانستان کو ’خاص توجہ والے ملک‘ یا خاص توجہ والے ملک کے طور پر نامزد کیا جائے، جس سے طالبان کے خلاف وسیع پیمانے پر بین الاقوامی پابندیاں عائد کرنے کا راستہ کھل سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:دہشتگردی کی نئی لہر، پاکستان، افغان طالبان اور خطے کا بحران
کمیشن کے رکن اسٹیفن شنیک نے افغانستان انٹرنیشنل کو بتایا کہ طالبان کی نئی نافذ کردہ جزائی ضابطہ اخلاق میں ایسے احکامات شامل ہیں جو مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے لیے شدید خطرہ ہیں۔
شنیک کے مطابق یہ ضابطہ صرف طالبان کے حنفی اسلام کی تشریح کو تسلیم کرتا ہے اور دیگر مذہبی مسلک یا فرقوں کو نظر انداز کرتا ہے۔ اس میں مخالفین کو قتل کرنے، غلامی کو تسلیم کرنے اور بعض رویوں جیسے رقص پر پابندی عائد کرنے کے احکامات شامل ہیں، جو بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہیں۔

شنیک نے کہا کہ افغانستان کو ’خاص توجہ والے ملک‘ قرار دینے سے طالبان کے خلاف مزید پابندیوں کی راہ ہموار ہو سکتی ہے اور بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر مشترکہ طور پر ردعمل ظاہر کرے۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک
انہوں نے زور دیا کہ طالبان کا ضابطہ خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی خلاف ورزی اور ان پر غلامانہ سلوک کو بھی جائز قرار دیتا ہے، جو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
افغان طالبان نے حال ہی میں اپنے زیر کنٹرول عدالتوں کے لیے نیا جزائی ضابطہ نافذ کیا ہے، جس میں مختلف جرائم کے لیے پھانسی، کوڑے، اعضا کی کٹائی اور دیگر سخت سزائیں شامل ہیں۔

شنیک کے مطابق اس ضابطے سے افغانستان میں مذہبی آزادی، عقیدہ کی آزادی اور انسانی حقوق کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
اس تجویز پر عمل درآمد ہونے کی صورت میں طالبان کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے حوالے سے بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ ہوگا، اور یہ اقدام عالمی سطح پر افغانستان کے مستقبل پر اہم اثر ڈال سکتا ہے۔













