شام کے صدر احمد الشراع کی موجودگی میں فلائی ناس اور شامی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے درمیان نئی ایئرلائن ‘فلائی ناس شام’ کے قیام کا معاہدہ طے پا گیا۔ نئی ایئرلائن کی پروازوں کا آغاز 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں متوقع ہے۔
یہ معاہدہ سعودی عرب اور شام کے درمیان دوطرفہ تعاون اور اسٹریٹجک سرمایہ کاری کے فریم ورک کے تحت طے پایا، جس میں سعودی وزارتِ سرمایہ کاری اور شامی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن اینڈ ایئر ٹرانسپورٹ نے ہم آہنگی کی۔
یہ بھی پڑھیے: ڈھاکا سے براہِ راست پرواز 14 سال بعد کراچی روانہ ہو گئی
نئی ایئرلائن ایک مشترکہ منصوبے کے طور پر قائم کی جائے گی، جس میں 51 فیصد شیئر شامی سول ایوی ایشن اتھارٹی اور 49 فیصد فلائی ناس کے پاس ہوں گے۔ کمپنی منظور شدہ ضوابط اور اعلیٰ ترین حفاظتی معیارات کے مطابق کمرشل پروازیں چلائے گی، جبکہ تمام لائسنسنگ اور آپریشنل مراحل متعلقہ اداروں کے تعاون سے مکمل کیے جائیں گے۔
فلائی ناس شام مشرق وسطیٰ، افریقہ اور یورپ کے متعدد مقامات کے لیے پروازیں چلائے گی، جس کا مقصد شام سے اور شام کے لیے فضائی آمدورفت کو فروغ دینا اور علاقائی و بین الاقوامی روابط کو مضبوط بنانا ہے۔
سعودی وزیرِ سرمایہ کاری خالد الفالح نے کہا کہ یہ اقدام معیاری سرحد پار سرمایہ کاری کے فروغ کے عزم کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق ہوا بازی کا شعبہ معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور یہ شراکت داری دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات اور علاقائی استحکام کو تقویت دے گی۔
یہ بھی پڑھیے: شام: عثمانی سلطنت کے بانی عثمان اوّل کے دادا سلیمان شاہ کا مزار دہشتگردوں سے بازیاب
شامی سول ایوی ایشن کے سربراہ عمر حصاری نے کہا کہ یہ منصوبہ شام کے فضائی شعبے کی جدید بنیادوں پر ازسرنو تعمیر کی قومی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
فلائی ناس اس وقت ریاض، جدہ اور دمام سے دمشق کے لیے ہفتہ وار 23 پروازیں چلا رہی ہے اور 2025 میں دمشق کے لیے شیڈول پروازیں بحال کرنے والی پہلی سعودی ایئرلائن بنی تھی۔













