ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کے دوران سفارتی بیانات کے ساتھ ساتھ طاقت کے مظاہرے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ایک طرف ایران نے یورینیم افزودگی کو اپنا خودمختار حق قرار دیتے ہوئے مؤقف مزید سخت کر دیا ہے، تو دوسری جانب امریکا نے خطے میں اپنی عسکری موجودگی نمایاں کر کے دباؤ بڑھانے کا اشارہ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی: پاکستان کا مکالمے اور سفارت کاری پر زور، وزیراعظم کا صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی ملک ایران کو یہ حکم نہیں دے سکتا کہ وہ کیا رکھے اور کیا نہ رکھے۔ ان کے مطابق یورینیم افزودگی ایران کا خودمختار حق ہے، تاہم بات چیت کے لیے لچک دکھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران افزودگی کی سطح کم کرنے پر غور کر سکتا ہے، لیکن یورینیم کے ذخائر بیرونِ ملک منتقل کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات ایک مثبت پیشرفت ہیں۔ ان کے مطابق ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے تحت اپنے حقوق کے دائرے میں رہتے ہوئے بات چیت کا حامی ہے، مگر دباؤ اور دھمکیوں کی زبان کو مسترد کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کے جوہری پروگرام پر امریکا سے بالواسطہ مذاکرات، عمان کی ثالثی میں مسقط میں اہم پیشرفت
اسی دوران امریکا کی جانب سے عسکری پیغام بھی دیا گیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ، امریکی خصوصی ایلچی اور دیگر اعلیٰ حکام نے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کا دورہ کیا، جسے ایران کے لیے طاقت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا کسی معاہدے کے لیے جلدی میں نہیں اور اس کے پاس وقت موجود ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب ایرانی فوجی اور عدالتی قیادت نے بھی سخت بیانات دیے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر امریکا مذاکرات کو وقت حاصل کرنے اور خطے میں فوجی طاقت بڑھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے تو ایران اس کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ایران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا، لیکن کسی بھی جارحیت کی صورت میں بھرپور دفاع کیا جائے گا۔
علاقائی اور عالمی سطح پر ایران، امریکا اور اسرائیل کے بیانات نے کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جبکہ مستقبل کے مذاکرات پر غیریقینی صورتحال برقرار ہے۔











