سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ عمر ایوب اور شبلی فراز نے 8 فروری کے انتخابات میں دھاندلی کے باوجود احتجاج نہ کرنے کی ڈیل کی۔
مزید پڑھیں: الیکشن میں دھاندلی کے خلاف عمران خان اور شیرافضل مروت کی درخواستیں قابل سماعت قرار
سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں فواد چوہدری نے کہاکہ 8 فروری 2024 کے انتخابات میں تحریک انصاف کی واضح برتری کے باوجود نتائج کو تبدیل کیا گیا۔
دسمبر میں اڈیالہ جیل ٹرائیل میں عمران خان سے ملاقات ہوئ تو میں نے کہا مجھے نہیں لگتا الیکشن ہوں گے کیونکہ حکمران بہت زیادہ غیرمقبول ہیں، عمران خان کا تجزیہ تھا کہ الیکشن ہوں گے اور فکر نہ کرو یہ جو بھی کر لیں تحریک انصاف بڑی اکثریت سے جیتے گی، جب آٹھ فروری ہوا تو عمران خان کا…
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) February 8, 2026
انہوں نے کہاکہ دسمبر 2023 میں جب اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات ہوئی تو میں نے کہاکہ مجھے نہیں لگتا کہ انتخابات ہوں گے کیونکہ حکمران غیرمقبول ہیں۔
فواد چوہدری کے مطابق عمران خان کا مؤقف تھا کہ انتخابات ہوں گے اور تحریک انصاف بھاری اکثریت سے جیتے گی۔
انہوں نے کہاکہ 8 فروری 2024 کے دن عمران خان کا تجزیہ درست ثابت ہوا اور عوام نے تمام ظلم و جبر اور دھاندلیوں کے باوجود تحریک انصاف کو عمران خان کے نام پر ووٹ دیا۔
فواد چوہدری کے مطابق اسی ماہ انہیں عدالت کے حکم پر جیل میں ٹی وی فراہم کیا گیا، جس کے ذریعے وہ انتخابات کے نتائج دیکھ رہے تھے، لیکن رات کے وقت اچانک ٹی وی بند کر دیا گیا، جس سے وہ اور ان کا سنتری حیران رہ گئے۔
’انتخابی نتائج تبدیل کرنے کا عمل 8 فروری کی رات سے 9 فروری تک جاری رہا‘
ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے نتائج کو تبدیل کرنے کا عمل 8 فروری کی رات شروع ہوا اور 9 فروری تک جاری رہا۔
سابق وفاقی وزیر نے دعویٰ کیاکہ تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب اور شبلی فراز نے اس دوران ایک ڈیل کرلی کہ نتائج تبدیل ہوئے بھی تو تحریک انصاف احتجاج نہیں کرے گی، جس کی وجہ سے پارٹی کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے کہاکہ اگر تحریک انصاف اس دن احتجاج کرتی تو ملک کی تاریخ مختلف ہوتی کیونکہ ہر حلقے میں ایم این اے اور ایم پی اے موجود تھے اور قیادت بھی وہاں موجود تھی۔
مزید پڑھیں: 8 فروری احتجاج: اپوزیشن کی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کی کال ناکام، جعلی بیانیے کا دور ختم ہو چکا، امیر مقام
فواد چوہدری نے مزید کہا کہ بعد میں عمران خان سے ملاقات ہوئی تو وہ شدید غصے میں تھے اور انہیں بخوبی معلوم تھا کہ کس نے کیا کھیل کھیلا اور جیتے ہوئے انتخابات کے نتائج کو مسترد لوگوں کی جھولی میں ڈال دیا گیا۔














