روس کے اعلیٰ فوجی انٹیلی جنس افسر پر ماسکو میں ہونے والے قاتلانہ حملے کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔ روسی سکیورٹی ادارے ایف ایس بی کے مطابق حملے میں ملوث مبینہ مرکزی کردار کو متحدہ عرب امارات کے تعاون سے دبئی سے گرفتار کر کے روس منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ دیگر سہولت کاروں کی نشاندہی بھی کر لی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماسکو میں مغربی پابندیوں کے شکار روسی انٹیلیجنس عہدیدار فائرنگ سے زخمی
روسی فیڈرل سکیورٹی سروس (ایف ایس بی) نے اعلان کیا ہے کہ ماسکو میں روسی فوجی انٹیلی جنس ادارے جی آر یو کے سینئر افسر لیفٹیننٹ جنرل ولادیمیر الیکسییف پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے سلسلے میں دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جن میں مبینہ فائرنگ کرنے والا شخص بھی شامل ہے۔
Putin held a telephone conversation with UAE president last night — Kremlin spokesman
Russian president thanked him for the assistance of the Emirati side in detaining a suspect in the attempted assassination of General Vladimir Alekseyev https://t.co/8gK3FdeqXv pic.twitter.com/MRozJcBAaY
— RT (@RT_com) February 8, 2026
ایف ایس بی کے مطابق 65 سالہ لیوبومیر کوربا، جو یوکرین میں پیدا ہونے والا روسی شہری ہے، کو دبئی میں متحدہ عرب امارات کی مدد سے گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں روس کے حوالے کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ کوربا گزشتہ برس دسمبر کے آخر میں یوکرینی سکیورٹی اداروں کی ہدایات پر ماسکو آیا تھا اور اس کا مقصد ایک دہشت گردانہ کارروائی انجام دینا تھا۔
یاد رہے کہ جمعے کے روز لیفٹیننٹ جنرل ولادیمیر الیکسییف کو ان کی رہائش گاہ کے باہر پیچھے سے تین گولیاں ماری گئیں، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:ماسکو : سینیئر روسی جنرل کار بم دھماکے میں ہلاک
ایف ایس بی نے مزید بتایا کہ اس حملے میں مبینہ طور پر ایک اور روسی شہری وکٹر واسن، عمر 66 سال، بھی شامل تھا جسے ماسکو سے گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ زینائدا سیریبریانسکایا نامی خاتون کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ یوکرین فرار ہو چکی ہے۔
کریملن کے ترجمان کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس معاملے پر یو اے ای کے صدر محمد بن زاید النہیان سے فون پر رابطہ کیا اور گرفتاری میں تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ ادھر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس حملے کو دہشت گردی قرار دیا، جبکہ یوکرین نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔












