بوئنگ کے اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ سعودی عرب امریکا کے بعد دفاعی اور ایرو اسپیس کے شعبے میں کمپنی کے سب سے بڑے شراکت داروں میں شامل ہے، اور مستقبل میں ویژن 2030 کے تحت یہ شراکت داری مزید وسعت اختیار کرے گی۔
ریاض میں منعقد ہونے والی ورلڈ ڈیفنس شو کے موقع پر بوئنگ کے نائب صدر برائے بین الاقوامی بزنس ڈیولپمنٹ، دفاع، خلا اور سکیورٹی ونسنٹ لوگسڈن نے کہا ہے کہ سعودی عرب دفاعی شعبے میں امریکا کے بعد بوئنگ کے سب سے بڑے شراکت داروں میں سے ایک ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شام کا سعودی ‘فلائی ناس’ کیساتھ مل کر نئی ایئرلائن کے قیام کا اعلان
عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ونسنٹ لوگسڈن نے بتایا کہ بوئنگ کا سعودی عرب کے ساتھ تعلق تقریباً 80 برسوں پر محیط ہے اور اس وقت سعودی عرب میں بوئنگ کے 400 سے زائد دفاعی نظام اور آلات موجود ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط دفاعی تعاون کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بوئنگ اس تعلق کو مزید آگے بڑھانا چاہتی ہے، جس کے لیے مشترکہ منصوبوں، انسانی وسائل میں سرمایہ کاری اور سعودی ویژن 2030 کے اہداف کے حصول میں شراکت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق بوئنگ سعودی عرب کو ایرو اسپیس ٹیکنالوجی کے مستقبل میں ایک کلیدی ملک کے طور پر دیکھتی ہے۔

ونسینٹ لوگسڈن کا کہنا تھا کہ بوئنگ سعودی عرب میں نہ صرف دفاعی پلیٹ فارمز کی فروخت بلکہ مقامی صنعت، خواتین کی خودمختاری، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ ان کے مطابق بوئنگ خود کو محض ایک سپلائر نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک پارٹنر سمجھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب، 140 نایاب جانور قدرتی ماحول میں چھوڑ دیے گئے
انہوں نے جدید جنگی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کا دفاع مختلف نظاموں کے باہمی امتزاج پر مبنی ہوگا، اور سعودی عرب کے پاس اس سمت میں آگے بڑھنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
واضح رہے کہ ورلڈ ڈیفنس شو سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی فار ملٹری انڈسٹریز کے زیرِ اہتمام منعقد کی جاتی ہے، جس کا مقصد دفاعی اخراجات میں مقامی شمولیت بڑھانا، جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانا اور دفاعی شعبے میں خود انحصاری کو فروغ دینا ہے۔














