جاپانی ین نے پیر کے روز ایشیائی منڈیوں میں مضبوطی دکھاتے ہوئے مسلسل 6 دن کی کمزوری کا سلسلہ توڑ دیا۔ یہ بہتری اتوار کو ہونے والے عام انتخابات میں وزیرِ اعظم سانائے تاکائیچی کی واضح کامیابی کے بعد سامنے آئی، جس کے بعد سرمایہ کاروں نے مالیاتی محرکات اور ممکنہ حکومتی اقدامات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی پوزیشنز لیں۔
کاروبار کے دوران ین نے ابتدائی 0.3 فیصد کمی کو پلٹتے ہوئے ڈالر کے مقابلے میں 0.7 فیصد تک مضبوطی دکھائی، تاہم بعد ازاں کچھ منافع واپس لے لیا گیا۔ آخری اطلاعات کے مطابق ین 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 156.76 فی ڈالر پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
مزید پڑھیں: پاک جاپان دوستی کے 74 سال: جاپانی سفیر نے اقتصادی و ثقافتی روابط کے فروغ کا روڈ میپ پیش کردیا
ین نے دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں بھی اپنی حالیہ کمزوری جزوی طور پر ختم کی، کیونکہ اس سے قبل یہ سوئس فرانک کے مقابلے میں ریکارڈ کم ترین سطح تک پہنچ گیا تھا جبکہ یورو کے مقابلے میں بھی تاریخی کمزوری کے قریب ٹریڈ ہو رہا تھا۔
او سی بی سی بینک کے کرنسی اسٹریٹجسٹ سم موہ سیونگ کے مطابق، اگرچہ فوری طور پر ین میں بہتری آئی ہے، تاہم مجموعی طور پر اس کے مضبوط ہونے کی گنجائش محدود دکھائی دیتی ہے، خاص طور پر حکومتی مداخلت کے خدشات کے باعث جو ڈالر کے مقابلے میں ین کی حرکت کو روک سکتے ہیں۔
جاپان کے اعلیٰ کرنسی سفارتکار اتسوشی میمورا نے کہا ہے کہ حکومت غیر معمولی سنجیدگی کے ساتھ کرنسی کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ انتخابات میں تاکائیچی کی جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے اتحادیوں کے ساتھ پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کرلی ہے، جس سے پالیسی سازی اور نفاذ کی صلاحیت مزید مضبوط ہو گئی ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش اور جاپان کے درمیان دفاعی سازوسامان اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کا معاہدہ
ادھر امریکی ڈالر انڈیکس ہفتے کے آغاز پر قریباً مستحکم رہا، جبکہ سرمایہ کار امریکا میں متوقع اہم معاشی اعداد و شمار، بشمول مہنگائی، ریٹیل سیلز اور روزگار رپورٹ، کے منتظر ہیں۔ مارکیٹ میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے رواں برس شرحِ سود میں نرمی کے امکانات بھی بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
برطانوی پاؤنڈ سیاسی بے یقینی کے باعث معمولی دباؤ میں رہا، جبکہ یورو، چینی یوآن، آسٹریلین اور نیوزی لینڈ ڈالر میں معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن اور ایتھر دونوں معمولی کمی کے ساتھ ٹریڈ کرتے رہے۔













