چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پاکستان میں نظام انصاف میں اصلاحات کے لیے اقوامِ متحدہ کے تعاون پر زور دیا ہے۔
پیر کے روز چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی سے اقوامِ متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر برائے پاکستان محمد یحییٰ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام، یو این ویمن، یونیسف، اقوامِ متحدہ آفس آن ڈرگز اینڈ کرائم اور یو این ایف پی اے کے ملکی نمائندگان بھی شریک تھے۔
یہ بھی پڑھیں: جسٹس یحییٰ آفریدی کے چیف جسٹس بننے کے بعد ادارے میں کیا کچھ بدلا؟
یہ ملاقات پاکستان کے نظامِ انصاف میں اصلاحاتی ترجیحات، حکمرانی، احتساب اور قانون کی حکمرانی پر عوامی اعتماد کو مزید مستحکم بنانے میں عدالتی اداروں کے کردار پر جامع تبادلہ خیال کا ذریعہ بنی۔
چیف جسٹس نے جاری اصلاحاتی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد انصاف تک رسائی کو بہتر بنانا، اداروں کی کارکردگی میں اضافہ کرنا اور ایسا نظامِ انصاف تشکیل دینا ہے جو مؤثر، جامع اور شہریوں کی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔
چیف جسٹس نے گفتگو کے دوران اس امر پر زور دیا کہ نظامِ انصاف میں اصلاحات اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے درمیان گہرا تعلق موجود ہے، کیونکہ یہ اہداف سب کے لیے انصاف تک رسائی اور مؤثر، جوابدہ اور شمولیتی اداروں کے قیام پر زور دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط اور قابلِ اعتماد عدالتی نظام پائیدار ترقی اور جمہوری حکمرانی کی بنیاد ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیشنل جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کا 56 واں اجلاس: عدالتی اصلاحات اور جدید اقدامات پر زور
انہوں نے پاکستان میں اقوامِ متحدہ کی مختلف ایجنسیوں کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے حکمرانی میں بہتری اور ادارہ جاتی مضبوطی کے لیے اہم معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
چیف جسٹس کے مطابق قانون کی حکمرانی کے فروغ، انسانی حقوق کے تحفظ، صنفی مساوات، بچوں کے لیے حساس نظامِ انصاف اور انصاف کے شعبے کے اداروں کی استعداد کار میں اضافے کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کا تعاون قابلِ قدر ہے۔
ملاقات میں عدلیہ اور اقوامِ متحدہ کے اداروں کے درمیان مستقبل میں تعاون کے امکانات پر بھی غور کیا گیا، جن میں تکنیکی معاونت، عدالتی تعلیم و تربیت، اعداد و شمار اور شواہد پر مبنی اصلاحات، پالیسی سپورٹ اور بین الاقوامی بہترین طریقۂ کار کا تبادلہ شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سال 2025: سپریم کورٹ، آئین، سیاست اور انصاف، فیصلے جو تاریخ بدل گئے
دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے اور نظامِ انصاف میں جدت و مضبوطی لانے کے لیے مسلسل رابطہ اور پائیدار شراکت داری ناگزیر ہے۔
یہ ملاقات مکالمے اور تعاون کے فروغ اور پاکستان کی آئینی اقدار و بین الاقوامی ترقیاتی وعدوں سے ہم آہنگ نظامِ انصاف میں اصلاحات کے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔











