پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ اگر آئی سی سی کے چیئرمین جے شاہ خود پاکستان آتے تو پھر پاکستان کی جانب سے کسی قسم کی ڈیمانڈ نہیں ہوتی۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ آئی سی سی چیئرمین جے شاہ پر براڈکاسٹرز کا دباؤ ہے کہ کسی بھی صورت میں پاک، بھارت میچ ہونا چاہیے، یہ دباؤ کھیل کے مفاد میں نہیں بلکہ تجارت اور میڈیا کے مفاد میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اعلان، شاہد آفریدی بول پڑے
شاہد آفریدی نے کہا کہ اگر آئی سی سی کے چیئرمین جے شاہ خود پاکستان آتے تو پھر پاکستان کی جانب سے کسی قسم کی ڈیمانڈ نہیں ہوتی۔
سابق کپتان نے زور دیا کہ ہمیشہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے تاکہ کرکٹ کا اصل مزہ برقرار رہے اور کھلاڑی بغیر دباؤ کے کھیل سکیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان انڈیا کا میچ ہوتا تو اس سے جے شاہ کی واہ واہ ہوتی، اسپانسرز کو فائدہ ہوتا اور کرکٹ ہوتی، اصل چیز یہ ہے کہ مثبت پیغام جانا چاہیے۔ جے شاہ میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ کھیل کو سیاست سے دور رکھ سکیں، کیوں کہ انڈین کرکٹ بورڈ کو چار گجراتی چلا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے اگر ٹی20 ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کیا تو آئی سی سی کیا کرسکتی ہے؟ اختیارات کا تفصیلی جائزہ
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں پاکستان کو کافی دھمکیاں ملتی رہیں بھارت میں، لیکن اس کے باوجود جب ہمیں حکومت کی طرف سے گرین سگنل ملا تو ہم گئے۔ 2016 کے ورلڈ کپ میں ہمیں یہ نہیں پتا تھا کہ ہماری کل کی فلائٹ ہے یا نہیں، اس طرح کرکٹ کا مزہ نہیں آتا۔














