تیراہ: دہشتگردوں نے مسجد و مدرسے کو آپریشنل اڈہ بنا لیا، دہشتگردی کے لیے کواڈ کاپٹر ڈرونز کے استعمال کا انکشاف

پیر 9 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کی جانب سے خیبرپختونخوا کے علاقے تیراہ میں مساجد کی بے حرمتی کی جانے لگی۔ جبکہ فتنہ الخوارج کی جانب سے دہشتگردی کے لیے کواڈ کاپٹر ڈرونز کے استعمال کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

مزید پڑھیں: نیشنل ایکشن پلان پر اتفاق رائے موجود، دہشتگردی کے معاملے پر سیاسی الزام تراشی بند ہونی چاہیے، طلال چوہدری

ذرائع کے مطابق خوارج نے تیراہ میدان کے علاقے میں واقع شڈالہ مدرسہ اور مسجد کو اپنا آپریشنل اڈہ اور مورچہ بنا لیا ہے، جس سے عبادت گاہوں کے تقدس کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق خوارج اسلحہ سمیت مسجد اور مدرسے کے اندر موجود ہیں اور طویل عرصے تک انہیں اپنے ٹھکانے کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔

اسلامی تعلیمات میں مساجد کو امن، عبادت اور روحانی سکون کی علامت قرار دیا گیا ہے اور نبی کریم ﷺ کی احادیث میں واضح ہے کہ مسجد کے اندر اسلحہ لانا سختی سے منع ہے تاکہ نمازیوں کے لیے محفوظ ماحول یقینی بنایا جا سکے۔

سیکیورٹی حکام اور مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ خوارج کے اس اقدام سے نہ صرف عبادت گاہوں کا تقدس پامال ہوا ہے بلکہ مقامی آبادی کی جان و مال بھی خطرے میں پڑ گئی ہے، کیونکہ مسجد اور مدرسے اب امن کے مراکز کی بجائے ہدف بن چکے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خوارج نے کسی بھی مقدس مقام کو محفوظ نہیں چھوڑا اور مذہب کا غلط استعمال کرتے ہوئے تشدد کو جواز بنایا ہے، جس سے ان کی نظریاتی انحراف اور اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی واضح ہوگئی ہے۔

دوسری جانب اطلاعات کے مطابق فتنہ الخوارج نے پاکستانی فوجی مقامات پر ڈرون حملوں کے لیے کواڈ کاپٹر ڈرونز استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں، جو جدید ٹیکنالوجی پر مبنی دہشتگردانہ کارروائیوں کے ابھرتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الخوارج نے دور سے جنگ لڑنے کے لیے ڈرون وارفیئر اپنائی ہے تاکہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ براہِ راست مقابلے کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔

فتنہ الخوارج تجارتی ڈرونز افغانستان سے تحریک طالبان افغانستان سے منسلک نیٹ ورکس اور بلیک مارکیٹ کے ذریعے حاصل کرتا ہے، جس سے سرحد پار لاجسٹک سہولتیں ظاہر ہوتی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق خوارج ڈرون حملوں میں شہریوں کو نشانہ بنا کر انسانی جانوں کی مکمل بے حرمتی کررہے ہیں اور پاکستان میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہر حملے کے بعد خوارج ریاست پر الزامات عائد کرنے کے لیے غلط معلومات پھیلانے کی مہم بھی چلاتے ہیں، جس کا مقصد حکومت اور سیکیورٹی اداروں پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرنا اور قومی اتحاد کو متاثر کرنا ہے۔

ماہرین کے مطابق ڈرونز تک رسائی فتنہ الخوارج کی آپریشنل رینج کو بڑھا دیتی ہے، جس سے وہ روایتی ہتھیاروں اور زمینی حدود سے ماورا حملے کر سکتے ہیں۔

غیر ملکی خفیہ ایجنسیاں، بشمول را اور جی ڈی آئی مالی، تکنیکی اور لاجسٹک مدد کے ذریعے فتنہ الخوارج کو پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے میں سہولت فراہم کررہی ہیں۔

مزید پڑھیں: تیراہ آپریشن: پاکستان کے دہشتگرد مخالف اقدامات کے حقائق عوام کے سامنے

سیکورٹی ماہرین نے کہا ہے کہ بیرونی پشت پناہی اور جدید حربوں کے باوجود پاکستان کے ادارے اور عوامی عزم مضبوط ہیں، جس کی بدولت اس طرح کی دہشتگردانہ کارروائیوں کے طویل مدتی اثرات محدود رہیں گے۔

دوسری جانب یہ بھی کہا گیا ہے کہ جن افراد کو بار بار لاپتا کہہ کر دکھایا جاتا ہے، وہ بعد میں بی ایل اے اور بی ایل ایف کی دہشتگرد کارروائیوں میں بندوق اٹھائے سامنے آتے ہیں۔ ایسے افراد لاپتا نہیں چھپے ہوئے قاتل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’آئیے لندن کا بہترین چہرہ دکھائیں‘، میئر صادق خان نے لیسٹر اسکوائر میں رمضان لائٹس کا افتتاح کردیا

پریماداسا اسٹیڈیم میں پاکستان نے اب تک کتنے ٹی20 میچز کھیلے اور نتائج کیا رہے؟

ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران میں نظام کی تبدیلی کا اشارہ، ایک اور بحری بیڑا مشرق وسطیٰ میں بھیجنے کا اعلان

ٹی20 ورلڈ کپ: بھارت سے بڑے مقابلے سے قبل پاکستان کا بھرپور ٹریننگ سیشن

دہلی یونیورسٹی میں اختلاف کی قیمت؟ ایک واقعہ، کئی سوالات

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟