العلا کانفرنس: پاکستان نے خودمختار قرض مینجمنٹ کا مؤثر ماڈل پیش کردیا

منگل 10 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر سرکاری قرضے تاریخی بلند ترین سطح پر موجود ہیں، جس کے باعث ابھرتی اور ترقی پذیر معیشتوں کو بلند قرض سروسنگ اخراجات، سخت مالی حالات اور محدود مالی گنجائش جیسے مسلسل دباؤ کا سامنا ہے۔

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے منعقدہ العلا کانفرنس 2026 کے موقع پر ’خودمختار قرضوں کے خطرات سے نمٹنے‘ کے عنوان سے اعلیٰ سطحی گول میز اجلاس میں شرکت کی۔

یہ کانفرنس حکومتِ سعودی عرب اور عالمی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کے اشتراک سے منعقد کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان سعودی عرب سرمایہ کاری کانفرنس، سعودی وفد کی توجہ کا مرکز کیا تھا؟

اپنی گفتگو میں نے زور دیا کہ پالیسی کا بنیادی چیلنج صرف قرض کے حجم کا انتظام نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ وقتی مالی دباؤ دیوالیہ پن کے بحران میں تبدیل نہ ہو، جبکہ ترقی کو فروغ دینے والے اور سماجی اخراجات کا تحفظ بھی برقرار رہے۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے سعودی وزیرِ خزانہ محمد الجدعان کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معاشی استحکام ترقی کا دشمن نہیں بلکہ پائیدار اور دیرپا اقتصادی نمو کی بنیاد ہے، اور پاکستان کا حالیہ تجربہ اس حقیقت کی بھرپور تائید کرتا ہے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے منضبط میکرو اکنامک پالیسیوں، ادارہ جاتی اصلاحات اور فعال قرض مینجمنٹ کے ذریعے معاشی استحکام کی بحالی میں ابتدائی مگر اہم پیش رفت کی ہے، تاہم اصلاحات کا یہ سفر ابھی جاری ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان سعودی عرب کے وژن 2030 سے سیکھنے کے لیے پُرعزم ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

انہوں نے بتایا کہ پاکستان عوامی قرضے کو قابو میں رکھنے اور بہتر انداز میں منظم کرنے کی راہ پر گامزن ہے، جس کے تحت قرضوں کی مدت میں توسیع، قرض سروسنگ لاگت میں کمی اور قبل از وقت قرض ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔

ان اقدامات کے نتیجے میں گزشتہ 3 برسوں کے دوران قرض کا جی ڈی پی سے تناسب تقریباً 74 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد کے لگ بھگ آ گیا ہے، جبکہ بیرونی قرض کا جی ڈی پی سے تناسب مستحکم رہا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ سودی اخراجات میں نمایاں بچت، قرضوں کی میعاد میں بہتری اور ری فنانسنگ کے خطرات میں کمی واقع ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب کا مشترکہ مستقبل کے لیے اقتصادی تعلقات کے فروغ کا عزم

سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان میں قرضوں کے پائیدار تجزیے کے باقاعدہ اور شفاف نظام کے قیام کو بھی اجاگر کیا، جو آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے طریقۂ کار سے ہم آہنگ ہے اور جس میں اندرونی و بیرونی قرضوں کے ساتھ حکومتی ضمانتیں بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے خطرات کی بہتر نشاندہی، قرض دہندگان کے ساتھ مؤثر روابط اور مارکیٹ کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، جو جی 20 کے کامن فریم ورک کے مقاصد سے ہم آہنگ ہے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ نے ملکی وسائل کے بہتر حصول میں پیش رفت کا بھی ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیکس اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکس نیٹ کے دائرہ کار میں توسیع کے نتیجے میں پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب، جو ماضی میں سنگل ڈیجٹ میں تھا، اب بڑھ کر تقریباً 12 فیصد کے قریب پہنچ چکا ہے۔

مزید پڑھیں: روپے کی قدر میں مضبوطی، پاکستانی معیشت کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟

انہوں نے قرض مینیجمنٹ کو ماحولیاتی اور ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کا ذکر کیا، جن میں گرین سکوک کا اجرا اور خودمختار پائیدار فنانسنگ فریم ورک کا قیام شامل ہے۔

اپنی گفتگو کے اختتام پر سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ خودمختار قرضوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات، مضبوط ادارے، شفافیت اور قابلِ اعتماد پالیسی فریم ورک ناگزیر ہیں، جنہیں عالمی سطح پر بہتر تعاون کی حمایت حاصل ہونی چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایم 9 موٹروے حادثہ: اموات کی تعداد 14 ہوگئی، 12 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے نکلا

رواں سال ڈیڑھ لاکھ افغانوں کی وطن واپسی، افغانستان میں صورتحال سنگین

عمران خان کو نجی اسپتال میں داخل کرانے کا مطالبہ، حکومت کا ردعمل آگیا

ٹی20 ورلڈ کپ: محسن نقوی کا پاک بھارت میچ دیکھنے کے لیے سری لنکا جانے کا امکان

5 پاؤنڈز کا عطیہ جیب میں ڈالنے کا معاملہ، ابرار الحق اور صحافی سفینہ خان کے درمیان تکرار کی ویڈیو وائرل

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟