ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ لاہور میں بسنت کے موقع پر اتنا زبردست جوش و خروش دیکھنے کو ملے گا۔ ہمیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ ہمارے ہوٹل پر اس قدر رش ہوگا۔ لاہور کے شہریوں کے علاوہ نہ صرف پورے پاکستان بلکہ بیرونِ ملک سے بھی مہمان بسنت منانے لاہور پہنچے۔ ملتان، کشمیر، سرگودھا، فیصل آباد اور کراچی سمیت مختلف شہروں سے لوگ آئے۔
یاسر بروسٹ اینڈ ہوٹل کے منیجر خرم شہزاد کے مطابق بسنت کے دنوں میں لوگ گھنٹوں اپنی باری کا انتظار کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان 3 دنوں میں ہمیں یہ تک معلوم نہ رہا کہ رات ہو رہی ہے یا دن۔ بسنت کے دوران ہوٹل کے اوقاتِ کار بڑھانے پڑے۔ عملہ صبح 6 بجے ڈیوٹی پر آ جاتا اور اگلی صبح تک مسلسل سروس فراہم کرتا رہا۔ اس دوران کھانے کی تیاری اور سروس کے ساتھ ایک منٹ کے لیے بھی بیٹھنے کی فرصت نہیں ملی۔
مزید پڑھیں: لاہور کے بعد کوئٹہ میں بھی بسنت، شہری تہوار کے لیے کتنے تیار؟
لاہور کے مشہور بازار انارکلی کے چائے فروش فراز احمد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ بسنت کے 3 دنوں نے کاروبار پر انتہائی مثبت اثر ڈالا۔ گاہکوں کا اس قدر رش تھا کہ چائے پلانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، حتیٰ کہ کرسیاں بھی کم پڑ گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ کئی سال بعد عید جیسا رش دیکھنے میں آیا۔ چنوں والے، پائے والے، حلوہ پوری والے اور لسی فروش سب کے پاس اشیاء کم پڑ گئیں، جبکہ رہائشی ہوٹلوں میں کمرے دستیاب نہ رہے۔
فراز احمد خان، جو پختون چائے فروش ہیں، نے مزید بتایا کہ خیبر پختونخوا سے بھی بڑی تعداد میں لوگ آئے۔ ہوٹلوں میں جگہ نہ ملنے کی وجہ سے کئی مہمان ان کے پاس آ جاتے، جن کے لیے وہ کسی نہ کسی جگہ 3 دن کے قیام کا انتظام کر دیتے تھے۔
محمد ادریس، جو بھٹورے اور سموسے کی دکان چلاتے ہیں، نے بسنت کے دوران اپنے کاروبار کے بارے میں بتایا کہ عام دنوں میں وہ صبح 5 بجے دکان کھولتے اور دوپہر 12 بجے بند کر دیتے ہیں، مگر بسنت کے دنوں میں رات دیر تک کاروبار جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے اتنا رش کبھی نہیں دیکھا۔ محمد ادریس کے مطابق بسنت ایک کامیاب اور خوشگوار فیسٹیول ثابت ہوا، جو ہر سال ہونا چاہیے اور اس کا دورانیہ مزید بڑھایا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں: بسنت فیسٹیول سے مریم نواز اور ن لیگ کو کتنا سیاسی فائدہ ہوا؟
لاہور کے اندرون میں رہائشی ہوٹل چلانے والے محمد جاوید بھٹی نے وی نیوز کو بتایا کہ ان کے ہوٹل میں کل 12 کمرے ہیں، لیکن 3 دن ایک کمرے بھی خالی نہیں تھا، بسنت کے دوران پورا لاہور کھچا کھچ بھرا رہا۔ کئی لوگ گھنٹوں کمرہ تلاش کرتے رہے اور بعض کو گاڑیوں میں سونا پڑا۔
ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ افراد نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ بسنت جیسا کامیاب اور بہترین فیسٹیول ہر سال ہونا چاہیے، کیونکہ اس سے نہ صرف ثقافت کو فروغ ملتا ہے بلکہ ملکی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔













