آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے نظامت مذہبی امور نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ اولاد کی شادی سادگی کے ساتھ اور اسلامی طریقہ میانہ روی اپنانے کے اصول کے مطابق کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کے علاقے جہاں شادی بیاہ کی دلچسپ قدیم روایات اب بھی زندہ ہیں
نظامت مذہبی امور کی جانب سے جاری ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ معاشی حالات، زیورات اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کے باعث والدین اولاد کی شادی کے لیے مالی طور پر مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔
نظامت مذہبی امور نے تمام علما کرام، آئمہ اور خطبا مساجد سے درخواست کی ہے کہ وہ عوام الناس کی مناسب رہنمائی کریں تاکہ لوگ شادی میں غیر ضروری مطالبات اور اسراف سے گریز کریں۔

ہدایت نامے میں زور دیا گیا ہے کہ شادی کے موقع پر زیورات کے بجائے سادگی کو فروغ دیا جائے اور اگر سونے کے زیورات لازمی ہوں تو ایک تولہ تک کی حد مقرر کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیری باقرخانی کیسے تیار کی جاتی ہے اور مہنگائی کی وجہ سے اس کے کاروبار پر کیا اثر پڑا ہے؟
نظامت کی جانب سے شادی کی دیگر فضول اور مہنگی رسومات کو ختم کر کے سادہ اور اسلامی طریقہ اپنانے کی تاکید کی گئی ہے۔ نظامت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ علما کرام اس سلسلے میں عوام کی رہنمائی کا فریضہ بہتر انداز میں ادا کریں تاکہ معاشرتی اخراجات میں کمی اور شادیوں میں سادگی کی روایت کو فروغ مل سکے۔













