سابق گورنر اور پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے اہم سیاسی مرکز بلور ہاؤس کے نئے مالک حاجی غلام علی کہتے ہیں کہ بزرگ سیاست دان غلام احمد بلور کے پشاور سے منتقل ہونے سے پورا شہر سیاسی طور پر یتیم ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غلام بلور نے پارلیمانی سیاست اور پشاور کو خداحافظ کہہ دیا
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے غلام علی نے کہا کہ بلور خاندان کے پشاور سے اسلام آباد منتقل ہونے پر انہیں دکھ ہوا اور یہ پشاور کا نقصان ہے۔
غلام علی نے بلور ہاؤس کی ملکیت، سیاسی معمولات، لوکل گورنمنٹ، گورنر ہاؤس اور سی ایم ہاؤس کے درمیان جاری کشیدگی اور دیگر سیاسی معاملات پر بات کی۔
’ایک روپے میں بلور ہاؤس لے لو‘
وی نیوز سے بات چیت میں حاجی غلام علی نے بتایا کہ وہ بلور ہاؤس کی خریداری میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے تاہم انہیں معلوم تھا کہ غلام احمد بلور اپنا گھر فروخت کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انھیں بلور خاندان کی جانب سے پیغامات ملے جس پر انہوں نے انکار کیا۔
انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل غلام احمد بلور نے انہیں گھر دعوت دی اور مکان خریدنے کے لیے کہا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے انکار کیا جس پر غلام بلور نے واضح کیا کہ اگر ایک روپے میں بھی خریدتے ہو تو دینے کے لیے تیار ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اگر غلام احمد بلور کی تنہائی کا خیال نہ ہوتا تو وہ کبھی بلور ہاؤس نہ خریدتے۔
غلام علی نے کہا کہ میں کبھی نہیں چاہتا تھا کہ بلور خاندان پشاور چھوڑ دے لیکن غلام احمد بلور کا خاندان پہلے ہی منتقل ہو چکا تھا اور وہ اکیلے رہ گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ کافی رابطوں کے بعد انہوں نے گھر آخرکار خرید لیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے کبھی گھر خالی کرنے کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ غلام احمد بلور خود خالی کر کے اسلام آباد منتقل ہوئے۔
’انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے تو بلور ہاؤس میں رہ سکتے تھے، مجھے خوشی ہوتی‘۔
’بلور ہاؤس کا سیاسی تشخص برقرار رکھوں گا‘
بلور ہاؤس کے نئے مالک غلام علی نے بتایا کہ گھر میں کام شروع کر دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلور ہاؤس ایک تاریخی گھر ہے جو سیاست کا مرکز رہا ہے جہاں ملک کے بڑے بڑے سیاست دان آتے رہے جبکہ پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کی سیاست کا بھی مرکز رہا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پی ٹی آئی دہشتگردوں کا سیاسی ونگ ہے اسی لیے اس پر حملے نہیں ہوتے، ثمر بلور
انہوں نے واضح کیا کہ بلور ہاؤس کا سیاسی تشخص برقرار رکھا جائے گا اور وہاں آنے والوں کے سر پر بھی ہاتھ رکھا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن وہ سیاسی لوگوں کے لیے احترام رکھتے ہیں اور غلام احمد بلور کے پشاور چھوڑنے پر انھیں دکھ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غلام بلور کا پشاور چھوڑنا پشاوریوں کا نقصان ہے اور پورا پشاور سیاسی طور پر یتیم ہو گیا ہے۔
’گورنر ریاست کا نہیں، پارٹی کا نمائندہ بن گیا ہے‘
حاجی غلام علی نے گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے درمیان بیان بازی اور دوری پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ گورنر صوبے کا بڑا ہوتا ہے اور اسے صوبے کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے موجودہ گورنر کا نام لیے بغیر ان کی سیاسی بیان بازی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گورنر کو ریاست کے نمائندے کے طور پر مثبت بیانات دینے چاہییں نہ کہ ایک پارٹی کے نمائندے بن کر۔
مزید پڑھیں: اے این پی کو خیر باد کہنے والی بلور خاندان کی واحد خاتون سیاستدان ثمر ہارون بلور کون ہیں؟
انہوں نے کہا کہ افسوس کہ آج گورنر ایک پارٹی کا نمائندہ بن کر رہ گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گورنر کی بے جا بیان بازی کے باعث صوبے کی سرکاری جامعات کی چانسلرشپ بھی گورنر سے لے لی گئی جبکہ اسلام آباد میں پختونخوا ہاؤس بھی۔
غلام علی نے کہا کہ جب میں گورنر تھا تو سیاسی اختلافات کے باوجود صوبے اور وفاق کے درمیان پل کا کردار ادا کیا کرتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ان کے دور میں کئی بار وزیراعظم گورنر ہاؤس آئے اور صوبائی حکومت کو وفاق کے سامنے بٹھا کر مسائل پر بات کی۔
’پی ٹی آئی نے لوکل گورنمنٹ کو تباہ کر دیا‘
غلام علی جنہوں نے سیاست کا آغاز کونسلر کی نشست سے کیا کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت نے بلدیاتی نمائندوں کو ایک روپے کا فنڈ بھی نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیے: مسلم لیگ ن میں شامل ہونے والی ثمر ہارون بلور کو رکن قومی اسمبلی بنانے کا فیصلہ
ان کا کہنا تھا کہ جب ملک میں جمہوریت ہوتی ہے تو بلدیاتی حکومت پر مارشل لا لگ جاتا ہے اور جب مارشل لا ہوتا ہے تو بلدیاتی حکومت جمہوری بن جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں پی ٹی آئی حکومت میں ہونے کے باوجود خراب کارکردگی کے باعث بلدیاتی انتخابات میں بدترین شکست سے دوچار ہوئی۔
’پی ٹی آئی الیکشن جیتی نہیں بلکہ اس کو حکومت دی گئی‘
سابق گورنر غلام علی نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ تیسری بار مسلسل حکومت کے باوجود ترقیاتی کام نہیں ہو رہے۔
مزید پڑھیں: عوامی نیشنل پارٹی کو بڑا دھچکا، ثمر ہارون بلور کی مسلم لیگ ن میں شمولیت، وزیراعظم سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو عوام کی پرواہ نہیں بلکہ عمران خان کی رہائی کی فکر ہے۔
غلام علی نے کہا کہ عمران خان پارٹی سربراہ ہیں جبکہ حکومت عوامی ہوتی ہے۔ اور عوام کو چھوڑ کر عمران خان کے لیے احتجاج اور مارچ کہاں کا انصاف ہے؟
مزید پڑھیے: بلور خاندان کی سیاست سے کنارہ کشی، غلام بلور نے پشاور کو خیرباد کیوں کہا؟
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی عوامی مینڈیٹ سے حکومت میں نہیں آئی بلکہ اس کو سزا کے طور پر خیبر پختونخوا کی حکومت دی گئی۔











