سندھ اسمبلی کے واحد جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی 14 فروری کو بوریا بستر لے کر سندھ اسمبلی کے باہر پہنچے گی اور ایک تاریخی دھرنا دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس پر پولیس کارروائی، منعم ظفر کا کارکنان کو پُرامن رہنے کی ہدایت
اپنی حالیہ گرفتاری اور رہائی کے بعد وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ الیکشن کمیشن کے باہر 8 فروری کے اس الیکشن کی دوسری سالگرہ منانے کے لیے جمع ہوئے تھے جسے وہ دھاندلی زدہ سمجھتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کا مقصد ایک میڈیا ٹاک اور عوامی پریس کانفرنس کرنا تھا نہ کہ احتجاج۔
محمد فاروق نے کہا کہ وہ لوگ جو اقتدار میں ہیں اور جنہوں نے فارم 47 کے نتائج سے فائدہ اٹھایا انہوں نے اپنی حفاظت کے لیے پریس کانفرنس کو سبوتاژ کیا اور اظہار رائے کی آزادی کو دبایا۔
انہوں نے کہا کہ جب جماعت اسلامی کے ارکان جمع ہوئے تو ان کا ساؤنڈ سسٹم ضبط کر لیا گیا اور میزیں الٹ دی گئیں جس کے باوجود پریس کانفرنس شروع ہوئی لیکن حکام نے مداخلت کی اور اسے روکنے کے احکامات پر عمل کیا اور نتیجے کے طور پر کئی ارکان بشمول ایک 70 سالہ بزرگ، کراچی کے رہنما، ایک ضلعی رہنما، کے ایم سی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر اور خود ان کو گرفتار کر لیا گیا اور کارکنوں پر لاٹھیاں برسائی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں ڈھائی گھنٹے تک بغیر کسی قانونی جواز کے حراست میں رکھا گیا۔
مزید پڑھیے: کراچی: پولیس کا جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس پر دھاوا، رکن سندھ اسمبلی سمیت متعدد رہنما گرفتار
ایم پی اے کے مطابق جب انہوں نے اسمبلی میں ’پوائنٹ آف آرڈر‘ پر بات کرنے کی کوشش کی تو پہلے ان سے وقت دینے کا وعدہ کیا گیا لیکن پھر انکار کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پوائنٹ آف آرڈر پر بولنا ان کا استحقاق ہے خاص طور پر جب ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہو۔
محمد فاروق نے پورے اسمبلی سیشن کے دوران احتجاج کیا اور وزیر داخلہ سے جواب طلب کیا کہ جماعت اسلامی کے ارکان کی گرفتاری اور ان پر طاقت کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟
ان کا خیال ہے کہ حکومت جماعت اسلامی سے اس لیے خوفزدہ ہے کہ وہ کراچی میں ان کی 18 سالہ ناقص کارکردگی کو بے نقاب کر رہی ہے اور شہر کی موجودہ حالت کو اجاگر کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے حالیہ مارچ کا حوالہ دیا جس نے ان کے بقول حکومت کو ہلا کر رکھ دیا اور جس کے نتیجے میں جماعت اسلامی کے خلاف ریاستی مشینری کا استعمال کیا گیا۔
محمد فاروق کا کہنا ہے کہ یہ سب 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر جماعت اسلامی کے ایک بڑے دھرنے کی تیاری کے پیشِ نظر کیا جا رہا ہے جس میں نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی اور کراچی کے فنڈز کی منصفانہ تقسیم اور استعمال کا مطالبہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ کراچی کے نوجوانوں کے لیے پانی، بجلی، گیس، انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، ملازمتوں اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات کے لیے لڑ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: کراچی میں ریلی نکالنے پر امیر جماعت اسلامی منعم ظفر سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج
محمد فاروق نے دعویٰ کیا کہ کراچی میں جماعت اسلامی کو بھرپور عوامی حمایت حاصل ہے اور وہ بڑے پیمانے پر دھرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
انہوں نے گزشتہ 29 روزہ دھرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے سندھ میں بلدیاتی انتخابات ہوئے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جماعت اسلامی آئینی اور قانونی فریم ورک کے اندر رہ کر کام کرتی ہے اور بدانتظامی اور کرپشن کے خلاف احتجاج کرتی ہے۔
محمد فاروق کا دعویٰ ہے کہ کراچی میں جماعت اسلامی کا احیاء ہو چکا ہے اور اس نے بلدیاتی انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ اور نشستیں حاصل کیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں عام انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے مزید نشستیں جیتنے سے روکا گیا۔ ان کا ماننا ہے کہ جماعت اسلامی کراچی میں ایک بڑی اسٹیک ہولڈر ہے جو سیاسی، تنظیمی اور ووٹوں کے لحاظ سے سب سے آگے ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سانحہ گل پلازہ: جماعت اسلامی نے وزیراعلیٰ سندھ سے استعفے کا مطالبہ کردیا، ملین مارچ کا اعلان
انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی مقامی مسائل پر توجہ مرکوز کر رہی ہے، مذہبی اور سماجی بہبود پر کام کر رہی ہے اور لوگوں کے مسائل حل کر رہی ہے اور کراچی کے نوجوانوں کی حمایت پر زور دیتی ہے۔
محمد فاروق کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی کی موجودگی نچلی سطح تک ہے جس کے پاس کارکنوں اور حامیوں کا ایک مضبوط نیٹ ورک ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے ساتھ ایک عوامی جماعت ہے اور اس کا مقصد سندھ میں حکومت بنانا ہے۔
مزید پڑھیں: جماعت اسلامی نے اسلام آباد بلدیاتی آرڈیننس ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا
محمد فاروق نے کہا کہ 14 فروری سے شروع ہونے والا دھرنا مطالبات کی منظوری تک ایک طویل مدتی عہد ہوگا جو ممکنہ طور پر ان کے پچھلے دھرنے کے دورانیے سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔













