10 اگست 2024 کی صبح یاسمین مہانی غزہ سٹی کے التبین اسکول کے کھنڈرات میں اپنے بیٹے سعد کو تلاش کرتی رہیں، مگر انہیں اس کا کوئی سراغ نہ ملا۔
ان کے بقول وہ مسجد میں داخل ہوئیں تو ہر طرف خون اور انسانی گوشت کے ٹکڑے بکھرے تھے۔ کئی دن اسپتالوں اور مردہ خانوں میں تلاش کے باوجود سعد کی لاش تک نہ مل سکی۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں قحط: امداد کو ہتھیار بنانے کی اسرائیلی حکمتِ عملی
وہ کہتی ہیں کہ تدفین کے لیے جسم تک نہ ملنا سب سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔
یاسمین مہانی ان ہزاروں فلسطینیوں میں شامل ہیں جن کے پیارے اسرائیل کی غزہ پر جاری جنگ کے دوران لاپتا ہو گئے ہیں۔ اس جنگ میں اب تک 72 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
If you're wondering why there's no trace of more than 3,000 child killed in Gaza.
It is because Israel killed them with US-supplied thermal and thermobaric munitions burning at 3,500 degrees Celsius.
Israel used weapons in Gaza that made thousands of Palestinians evaporate. pic.twitter.com/WdMabjgFoX
— Mohamad Safa (@mhdksafa) February 10, 2026
الجزیرہ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ کی سول ڈیفینس ٹیموں نے 2,842 ایسے فلسطینیوں کو ریکارڈ کیا ہے، جو حملوں کے بعد مکمل طور پر ’غائب‘ ہو گئے۔
’دی ریسٹ آف دی اسٹوری‘ میں بتایا گیا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جائے وقوعہ پر صرف خون کے چھینٹے یا جسم کے چھوٹے ٹکڑے ملے، مکمل لاش نہیں۔
مزید پڑھیں: کیا غزہ اسرائیل کا اسٹالن گراڈ ثابت ہوگا؟
سول ڈیفینس کے ترجمان محمود بصل کے مطابق ٹیمیں حملے کی جگہ پر موجود افراد کی تعداد اور ملنے والی لاشوں کا تقابلی جائزہ لیتی ہیں۔
اگر تعداد پوری نہ ہو اور طویل تلاش کے باوجود صرف حیاتیاتی آثار ملیں تو باقی افراد کو ’بخارات بن جانے‘ والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں ماہرین اور عینی شاہدین نے اس رجحان کو حرارتی اور تھرمو بیریک ہتھیاروں کے استعمال سے جوڑا ہے، جو 3,000 سے 3,500 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت پیدا کر سکتے ہیں۔
روسی فوجی ماہر واسیلی فتیگاروف کے مطابق ان ہتھیاروں میں ایندھن کا بادل پھیل کر آگ کا بڑا گولا اور خلا نما دباؤ پیدا کرتا ہے، جبکہ ایلومینیم، میگنیشیم اور ٹائٹینیم جیسے عناصر درجہ حرارت کو مزید بڑھاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کا اسرائیلی اقدامات پر سخت ردعمل
غزہ کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البرش کے مطابق انسانی جسم کا بڑا حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے اور انتہائی حرارت و دباؤ کے باعث جسمانی رطوبتیں فوراً ابل کر بافتوں کو راکھ میں بدل دیتی ہیں۔
تحقیق میں امریکی ساختہ بموں جیسے MK-84، BLU-109 اور GBU-39 کا ذکر کیا گیا ہے، جنہیں مختلف حملوں میں استعمال کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے ہتھیار جو جنگجو اور عام شہری میں فرق نہ کر سکیں، بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم کے زمرے میں آتے ہیں۔
قطر میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی لیکچرر اور وکیل ڈیانا بٹو کے مطابق اسلحے کی فراہمی میں مغربی ممالک کی شمولیت بھی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
مزید پڑھیں: جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد، غزہ میں موجود آخری اسرائیلی یرغمالی کی لاش برآمد
دوسری جانب بین الاقوامی عدالت انصاف اور عالمی فوجداری عدالت کی کارروائیوں کے باوجود زمینی صورتحال میں بہتری نہ آنے پر ماہرین نے عالمی انصاف کے نظام کو ناکام قرار دیا ہے۔
بوریج پناہ گزین کیمپ کے رہائشی رفیق بدران، جنہوں نے اپنے 4 بچوں کو کھو دیا، کہتے ہیں کہ انہیں بچوں کے صرف چند ٹکڑے دفنانے کے لیے ملے۔
’میرے 4 بچے بس بخارات بن گئے، کچھ بھی باقی نہ بچا۔‘











