کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کے ہمراہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے سفر کے دوران ایک مبینہ قاتلانہ حملے سے بال بال بچ گئے۔
سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو ناسیونال ڈی کولمبیا کے مطابق صدر پیٹرو نے منگل کے روز بتایا کہ ان کا ہیلی کاپٹر کولمبیا کے کیریبین ساحل پر ایک مقام پر لینڈ نہیں کر سکا کیونکہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ نامعلوم افراد ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی تیاری میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے منشیات فروشوں کی معاونت کا الزام لگا کر کولمبیا کے صدر اور اہل خانہ پر پابندی لگا دی
’گزشتہ رات میں لینڈ نہیں کر سکا کیونکہ مجھے بتایا گیا تھا کہ جس ہیلی کاپٹر میں میں اپنی بیٹیوں کے ساتھ سفر کر رہا تھا، اس پر فائرنگ کی جائے گی۔ حتیٰ کہ جہاں مجھے اترنا تھا وہاں لائٹس بھی آن نہیں کی گئیں۔‘
انہوں نے یہ بات صوبہ کوردوبا میں وزرا کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے، صدر کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے باعث انہیں اپنے سفری منصوبوں میں اچانک اور بڑی تبدیلیاں کرنا پڑیں۔
Details emerge on Colombian President Petro’s ASSASSINATION escape
President Petro says he had to FLEE BY SEA as his planned landing site was COMPROMISED — ‘I have been spending 2 days not in the arms of love, but escaping from being KILLED’ pic.twitter.com/i35j9uRIFH
— RT (@RT_com) February 11, 2026
’میں قتل ہونے سے بچنے کی کوشش کر رہا ہوں، اسی لیے میں گزشتہ رات وقت پر نہیں پہنچ سکا کیونکہ میں طے شدہ مقام پر لینڈ نہیں کر سکا، آج صبح بھی میں مقررہ مقام پر نہیں اتر سکا کیونکہ اطلاع تھی کہ ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی جائے گی۔’
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کا ہیلی کاپٹر کئی گھنٹے تک کھلے سمندر کی جانب پرواز کرتا رہا، یہاں تک کہ کولمبین بحریہ کی مدد سے ایک متبادل مقام پر بحفاظت لینڈنگ ممکن ہو سکی، جس کے بعد ان کی سیکیورٹی اور سفری راستوں میں تبدیلی کی گئی۔
مزید پڑھیں: کولمبیا کے صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو کھری کھری سنا دیں
ریڈیو ناسیونال ڈی کولمبیا کے مطابق صدر پیٹرو نے کہا کہ یہ واقعات انہیں مسلسل الرٹ حالت میں رکھے ہوئے ہیں، اور ان کا تعلق گزشتہ سال اکتوبر سے جاری دیگر سرگرمیوں سے بھی ہو سکتا ہے۔
صدر پیٹرو اس سے قبل بھی 2024 میں اپنے خلاف ایک مبینہ حملے کی اطلاع دے چکے ہیں، وہ ماضی میں یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ اگست 2022 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ایک منشیات فروش کارٹیل انہیں نشانہ بنانا چاہتا ہے۔
یہ مبینہ قاتلانہ سازش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ملک میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور چند ماہ بعد صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں، جن میں آئینی پابندی کے باعث پیٹرو دوبارہ امیدوار نہیں بن سکتے، اسی دوران منگل کو ایک سینیٹر کے اغوا کا واقعہ بھی پیش آیا۔
مزید پڑھیں: کولمبیا کے صدارتی امیدوار میگوئل اُریبی کے نوعمر قاتل کو 7 سال قید کی سزا
ایک مقامی کارکن اور انسانی حقوق کی علمبردار سینیٹر عائدہ کِلکیو کو جنوب مغربی صوبہ کاؤکا میں نامعلوم افراد نے دوپہر کے وقت اغوا کیا ہے، 53 سالہ سینیٹر اپنی گاڑی میں 2 باڈی گارڈز کے ہمراہ سفر کر رہی تھیں جب انہیں نشانہ بنایا گیا۔
وزیر دفاع پیڈرو سانچیز کے مطابق بعد میں ایک مقامی محافظ دستے نے گاڑی تو برآمد کر لی، لیکن اس میں کوئی موجود نہیں تھا، صدر پیٹرو نے اغوا کاروں کو خبردار کیا کہ اگر سینیٹر کو رہا نہ کیا گیا تو وہ ’سرخ لکیر‘ عبور کرنے کے مترادف ہوگا۔
کچھ ہی دیر بعد وزیر دفاع نے اعلان کیا کہ سینیٹر اور ان کے محافظوں کو رہا کر دیا گیا ہے اور وہ محفوظ ہیں، کولمبیا کی فوج نے ان کی رہائی کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر جاری کیں۔
مزید پڑھیں: فلسطینیوں کے حق میں احتجاج سے خطاب کرنے پر امریکا نے کولمبیا کے صدر کا ویزا منسوخ کردیا
گزشتہ ہفتے بھی وینزویلا کی سرحد کے قریب اراوکا کے علاقے میں ایک سینیٹر کے قافلے پر حملے میں ان کے 2 محافظ ہلاک ہو گئے تھے، تاہم سینیٹر اس وقت گاڑی میں موجود نہیں تھے۔
ایک کولمبین مبصر گروپ کے مطابق حالیہ ہفتے میں ملک کے قومی علاقے کا تقریباً ایک تہائی یعنی 300 سے زائد بلدیاتی علاقے انتخابی تشدد کے خطرے سے دوچار ہیں، کیونکہ 8 مارچ کو پارلیمانی اور 31 مئی کو صدارتی انتخابات منعقد ہونا ہیں۔













