مرکزی حکومت ناکام: دیرپا امن کے لیے افغانستان کو نئے سیاسی ڈھانچے کی ضرورت

بدھ 11 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان میں 4 دہائیوں سے جاری جنگ اور سیاسی عدم استحکام کو صرف قیادت کی ناکامی سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ ماہرین کے مطابق مسئلہ بنیادی طور پر افغان ریاست کے ڈیزائن میں ساختی خامیوں کا ہے۔

جدید افغانستان 19ویں صدی کی استعماری حدود اور جغرافیائی نقشہ بندی کا نتیجہ ہے، جس میں مقامی سماجی اتحاد یا قومی ہم آہنگی کو نہیں دیکھا گیا۔ مختلف نسلی، لسانی اور جغرافیائی گروہ پشتون، تاجک، ہزاره اور ازبک، کبھی مشترکہ قومی مقصد کے تحت متحد نہیں ہوئے، بلکہ زبردستی اور انتظامی جبر کے ذریعے ریاست میں باندھے گئے۔

مزید پڑھیں: افغانستان دنیا کے بدعنوان ترین ممالک میں شامل، عالمی تنظیم کی رپورٹ جاری

آج بھی افغانستان عملی طور پر نسلی اور جغرافیائی بنیادوں پر تقسیم شدہ ہے۔ جنوبی و مشرقی علاقے، شمال اور وسطی پہاڑی علاقے الگ الگ طاقت کے ڈھانچوں اور تاریخی یادداشتوں کے مطابق کام کرتے ہیں۔ ہر مرکزی حکومت کی کوشش نے نسلی تسلط، مقامی مزاحمت اور بالآخر ریاست کے انہدام کے سوا کچھ نہیں دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ مرکزی ریاستی ماڈل اقلیتوں کے تحفظ میں ناکام رہا ہے۔ طاقت مرکز پر مرکوز ہونے کی وجہ سے غیر حاکم گروہوں کے لیے ریاست زیادہ تر خدمات فراہم کرنے والی نہیں بلکہ وفاداری طلب کرنے والی قوت رہی۔ اس کا نتیجہ نسلی بنیادوں پر تشدد، بے دخلی اور مسلسل سیاسی بحران کی شکل میں نکلتا ہے۔

مستقبل کے لیے ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ افغانستان میں نسلی وفاقیت یا بات چیت کے ذریعے رضاکارانہ تقسیم جیسے اختیارات پر غور کیا جائے، تاکہ سیاسی اختیار کو معاشرتی حقیقت کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ بین الاقوامی مثالیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ تقسیم شدہ یا وفاقی نظام نے گہرے تقسیم شدہ معاشروں میں مقامی حکمرانی، خوف کم کرنے اور تشدد کو اداروں کی طرف منتقل کرنے میں مدد کی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان رمضان سے قبل افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف

اہم یہ ہے کہ افغانستان کو کسی بھی نئے ڈیزائن کے لیے جبری نقل مکانی، نسلی صفایا یا یکطرفہ سرحدی تبدیلیوں سے بچنا ہوگا۔ تمام اقدامات تدریجی، مذاکراتی اور بین الاقوامی نگرانی میں ہونے چاہئیں، جس میں ریفرنڈمز اور اقلیتوں کے تحفظات شامل ہوں۔ مقصد صرف تقسیم نہیں بلکہ مسلسل جنگ کے محرکات کو کم کرنے والا سیاسی ڈھانچہ قائم کرنا ہے۔

مختصراً، افغانستان کو حکمران یا نظریات کی کمی نہیں ہے بلکہ سماجی حقیقت اور سیاسی ڈھانچے کے درمیان عدم مطابقت ہے۔ جب تک اس بنیادی تضاد کو حل نہیں کیا جاتا، کسی بھی امداد، پابندی یا سفارتی کوشش سے دیرپا امن ممکن نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غزہ کی بحالی کے لیے ہر ممکن تعاون کو تیار ہیں، ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان

اگلے 12 سے 18 ماہ میں لاکھوں ملازمین اپنی نوکریوں سے محروم ہو سکتے ہیں

وزیراعظم کا دورۂ امریکا: عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں، علاقائی و عالمی امور پر تبادلۂ خیال

سپریم کورٹ: سروس میٹر کیس میں وفاقی حکومت کی اپیل خارج، تاخیر معاف کرنے کی استدعا مسترد

وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی ملاقات میں کن امور پر گفتگو ہوئی؟

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ