افغانستان میں 4 دہائیوں سے جاری جنگ اور سیاسی عدم استحکام کو صرف قیادت کی ناکامی سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ ماہرین کے مطابق مسئلہ بنیادی طور پر افغان ریاست کے ڈیزائن میں ساختی خامیوں کا ہے۔
جدید افغانستان 19ویں صدی کی استعماری حدود اور جغرافیائی نقشہ بندی کا نتیجہ ہے، جس میں مقامی سماجی اتحاد یا قومی ہم آہنگی کو نہیں دیکھا گیا۔ مختلف نسلی، لسانی اور جغرافیائی گروہ پشتون، تاجک، ہزاره اور ازبک، کبھی مشترکہ قومی مقصد کے تحت متحد نہیں ہوئے، بلکہ زبردستی اور انتظامی جبر کے ذریعے ریاست میں باندھے گئے۔
مزید پڑھیں: افغانستان دنیا کے بدعنوان ترین ممالک میں شامل، عالمی تنظیم کی رپورٹ جاری
آج بھی افغانستان عملی طور پر نسلی اور جغرافیائی بنیادوں پر تقسیم شدہ ہے۔ جنوبی و مشرقی علاقے، شمال اور وسطی پہاڑی علاقے الگ الگ طاقت کے ڈھانچوں اور تاریخی یادداشتوں کے مطابق کام کرتے ہیں۔ ہر مرکزی حکومت کی کوشش نے نسلی تسلط، مقامی مزاحمت اور بالآخر ریاست کے انہدام کے سوا کچھ نہیں دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ مرکزی ریاستی ماڈل اقلیتوں کے تحفظ میں ناکام رہا ہے۔ طاقت مرکز پر مرکوز ہونے کی وجہ سے غیر حاکم گروہوں کے لیے ریاست زیادہ تر خدمات فراہم کرنے والی نہیں بلکہ وفاداری طلب کرنے والی قوت رہی۔ اس کا نتیجہ نسلی بنیادوں پر تشدد، بے دخلی اور مسلسل سیاسی بحران کی شکل میں نکلتا ہے۔
مستقبل کے لیے ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ افغانستان میں نسلی وفاقیت یا بات چیت کے ذریعے رضاکارانہ تقسیم جیسے اختیارات پر غور کیا جائے، تاکہ سیاسی اختیار کو معاشرتی حقیقت کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ بین الاقوامی مثالیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ تقسیم شدہ یا وفاقی نظام نے گہرے تقسیم شدہ معاشروں میں مقامی حکمرانی، خوف کم کرنے اور تشدد کو اداروں کی طرف منتقل کرنے میں مدد کی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان رمضان سے قبل افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
اہم یہ ہے کہ افغانستان کو کسی بھی نئے ڈیزائن کے لیے جبری نقل مکانی، نسلی صفایا یا یکطرفہ سرحدی تبدیلیوں سے بچنا ہوگا۔ تمام اقدامات تدریجی، مذاکراتی اور بین الاقوامی نگرانی میں ہونے چاہئیں، جس میں ریفرنڈمز اور اقلیتوں کے تحفظات شامل ہوں۔ مقصد صرف تقسیم نہیں بلکہ مسلسل جنگ کے محرکات کو کم کرنے والا سیاسی ڈھانچہ قائم کرنا ہے۔
مختصراً، افغانستان کو حکمران یا نظریات کی کمی نہیں ہے بلکہ سماجی حقیقت اور سیاسی ڈھانچے کے درمیان عدم مطابقت ہے۔ جب تک اس بنیادی تضاد کو حل نہیں کیا جاتا، کسی بھی امداد، پابندی یا سفارتی کوشش سے دیرپا امن ممکن نہیں۔














