پی ایس ایل 11 کے لیے کھلاڑیوں کی بولی، کس کھلاڑی کی کتنی قیمت لگی؟

بدھ 11 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پی ایس ایل 11 کا آکشن شروع ہوچکا ہے جس میں مختلف فرنچائزز کھلاڑیوں کی بولیاں لگا کر ٹیم میں شامل کررہی ہیں۔ ایکسپو سینٹر لاہور میں منعقدہ تقریب میں پہلی مرتبہ 8 ٹیموں پر مشتمل ایونٹ کے لیے کھلاڑیوں کا ڈرافٹنگ کے بجائے آکشن کے ذریعے انتخاب کیا جا رہا ہے۔

پی ایس ایل سیزن 11 کا انعقاد مارچ میں ہوگا اور ایونٹ میں 2 نئی ٹیموں کی شمولیت کے بعد اس میں شریک ٹیموں کی تعداد 8 ہوگئی ہے جو آکشن کے ذریعے نئے کھلاڑیوں کو اپنے اسکواڈ کا حصہ بنانے میں مصروف ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: جاوید آفریدی کا پشاور میں پی ایس ایل کے میچز کرانے کے فیصلے کا خیرمقدم

اسلام آباد یونائیٹڈ

فہیم اشرف کی بیس پرائز 4.2 کروڑ روپے تھی اور انہیں 8.5 کروڑ روپے میں خریدا گیا جبکہ ڈیرل مچل کی بیس پرائز 4.2 کروڑ روپے تھی اور وہ 7.6 کروڑ روپے میں شامل ہوئے۔ میکس برائنٹ کی بیس پرائز 60 لاکھ روپے تھی اور انہیں 1.95 کروڑ روپے میں حاصل کیا گیا۔ مہران ممتاز کی بیس پرائز 60 لاکھ روپے تھی اور وہ اسی قیمت پر ٹیم کا حصہ بنے۔ مارک چیپ مین کی بیس پرائس 4 کروڑ 20 لاکھ روپے تھی جن کو 7 کروڑ روپے میں خریدا گیا۔

محمد وسیم جونیئر کی بولی ان کی بنیادی قیمت 2.2 کروڑ پاکستانی روپے سے شروع ہوئی جن کو 4.1 کروڑ روپے میں حاصل کر لیا گیا۔

میر حمزہ سجاد کی بولی ان کی بنیادی قیمت 60 لاکھ روپے سے شروع ہوئی جن کو اسلام آباد یونائیٹڈ نے 70 لاکھ پاکستانی روپے میں حاصل کر لیا۔

سمیر منہاس کی بولی ان کی بنیادی قیمت 60 لاکھ روپے سے شروع ہوئی جن کو ایک کروڑ 90 لاکھ روپے میں حاصل کر لیا گیا۔

سمین گل اسلام آباد یونائیٹڈ کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

شیمار جوزف اسلام آباد یونائیٹڈ کو 1.1 کروڑ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

رچرڈ گلیسن اسلام آباد یونائیٹڈ کو 1.1 کروڑ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

عماد وسیم 2.2 کروڑ روپے کی بنیادی قیمت پر ہی خرید لیے گئے۔

دیپندر سنگھ ایری اسلام آباد یونائیٹڈ کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

محمد حسنین کی بولی ان کی بنیادی قیمت 60 لاکھ روپے سے شروع ہوئی اور ان کو اسلام آباد یونائیٹڈ نے 77.5 لاکھ روپے میں حاصل کر لیا۔

حیدر علی کی بولی ان کی بنیادی قیمت 60 لاکھ روپے سے شروع ہوئی ان کو اسلام آباد یونائیٹڈ نے 1.5 کروڑ روپے میں حاصل کر لیا۔

کراچی کنگز

سلمان علی آغا کی بیس پرائز 4.2 کروڑ روپے تھی اور انہیں 5.85 کروڑ روپے میں خریدا گیا جبکہ ڈیوڈ وارنر کی بیس پرائز 4.2 کروڑ روپے تھی اور وہ 7.9 کروڑ روپے میں شامل ہوئے۔ اعظم خان کی بیس پرائز 1.1 کروڑ روپے تھی اور انہیں 3.25 کروڑ روپے میں حاصل کیا گیا۔

ایڈم زمپا کی بولی ان کی بنیادی قیمت 4.2 کروڑ روپے سے شروع ہوئی۔ کراچی کنگز نے ایڈم زمپا کو 4.5 کروڑ روپے میں حاصل کر لیا۔

میر حمزہ کی بولی ان کی بنیادی قیمت 1.1 کروڑ روپے سے شروع ہوئی۔ ان کو 2.4 کروڑ پاکستانی روپے میں خرید لیا گیا۔

حمزہ سہیل کراچی کنگز کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

عاقب الیاس کراچی کنگز کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

خزیمہ بن تنویر کی بولی ان کی بنیادی قیمت 60 لاکھ روپے سے شروع ہوئی جن کو 90 لاکھ روپے میں حاصل کر لیا گیا۔

محمد وسیم 1.1 کروڑ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

جانسن چارلس کی بولی ان کی بنیادی قیمت 1.1 کروڑ روپے سے شروع ہوئی اور وہ 2 کروڑ روپے میں فروخت ہوئے۔

احسان اللہ کی بولی ان کی بنیادی قیمت 60 لاکھ روپے سے شروع ہوئی ان کو 1.05 کروڑ روپے میں حاصل کر لیا گیا۔

رضوان اللہ کراچی کنگز کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

لاہور قلندرز

فخر زمان کی بیس پرائز 4.2 کروڑ روپے تھی اور انہیں 7.95 کروڑ روپے میں خریدا گیا۔ حارث رؤف کی بیس پرائز 4.2 کروڑ روپے تھی اور وہ 7.6 کروڑ روپے میں شامل ہوئے۔ اسامہ میر کی بیس پرائز 2.2 کروڑ روپے تھی اور انہیں 3.50 کروڑ روپے میں حاصل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: پی ایس ایل 11: ٹیم راولپنڈی نے ریٹین کیے گئے کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کردیا
عبید شاہ کی بیس پرائز 60 لاکھ روپے تھی اور وہ 2.7 کروڑ روپے میں ٹیم کا حصہ بنے۔ حسیب اللہ خان کی بیس پرائز 1.1 کروڑ روپے تھی اور وہ اسی قیمت پر شامل کیے گئے۔

محمد فاروق لاہور قلندرز کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

آصف علی کو لاہور قلندرز نے 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر ہی حاصل کرلیا۔

پرویز حسین ایمون لاہور قلندرز کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

افتخار احمد کی بولی ان کی بنیادی قیمت 60 لاکھ روپے سے شروع ہوئی جو 1.8 کروڑ روپے میں پشاور زلمی کے حصے میں آئے۔

داسن شانہ کی بیس پرائس 60 لاکھ روپے تھا ان کو لاہور قلندرز نے 75 لاکھ روپے میں حاصل کر لیا۔

طیب طاہر لاہور قلندرز کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

حسین طلعت کی بولی ان کی بنیادی قیمت 60 لاکھ روپے سے شروع ہوئی جن کو 77.5 لاکھ روپے میں حاصل کر لیا گیا۔

گڈاکیش موتی لاہور قلندرز کو 1.1 کروڑ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

پشاور زلمی

خرم شہزاد کی بیس پرائز 1.1 کروڑ روپے تھی اور انہیں 2.7 کروڑ روپے میں خریدا گیا۔ محمد حارث کی بیس پرائز 1.1 کروڑ روپے تھی اور وہ 2.2 کروڑ روپے میں شامل ہوئے۔ عامر جمال کی بیس پرائز 1.1 کروڑ روپے تھی اور انہیں 1.9 کروڑ روپے میں حاصل کیا گیا۔

خالد عثمان پشاور زلمی کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

عبدالسبحان کی بولی 60 لاکھ  روپے کی بنیادی قیمت سے شروع ہوئی پشاور زلمی نے عبدالسبحان کو ساڑھے 62 لاکھ روپوں میں حاصل کر لیا۔

ناہید رانا پشاور زلمی کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

کوسل مینڈس کی بولی ان کی بنیادی قیمت 2.2 کروڑ روپے سے شروع ہوئی۔ پشاور زلمی نے ان کو 4.2 کروڑ روپے میں حاصل کر لیا۔

مائیکل بریسویل پشاور زلمی کو 4.2 کروڑ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

جیمز ونس کی بولی ان کی بنیادی قیمت 2.2 کروڑ روپے سے شروع ہوئی ان کو پشاور زلمی نے جیمز ونس کو 3 کروڑ روپے میں حاصل کر لیا۔

مرزا طاہر بیگ پشاور زلمی کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز

خواجہ نفے کی بیس پرائز 1.1 کروڑ روپے تھی اور انہیں 6.5 کروڑ روپے میں خریدا گیا جبکہ رائلی روسو کی بیس پرائز 4.2 کروڑ روپے تھی اور وہ 5.55 کروڑ روپے میں شامل ہوئے۔ جہانداد خان کی بیس پرائز 1.1 کروڑ روپے تھی اور انہیں 2.5 کروڑ روپے میں حاصل کیا گیا۔

بسم اللہ خان کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

خان زیب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر ملے۔

وسیم اکرم جونیئر کی بولی ان کی بنیادی قیمت 60 لاکھ پاکستانی روپے سے شروع ہوئی جن کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے 77.5 لاکھ روپے میں حاصل کر لیا۔

ثاقب خان کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

بیون جیکبز کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر حاصل کیا۔

سیموئل ہارپر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

بریٹ ہیمنٹ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

بین مکڈرمٹ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 1.1 کروڑ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

سعود شکیل کی بولی ان کی بنیادی قیمت 60 لاکھ پاکستانی روپے سے شروع ہوئی تھی جن کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے 65 لاکھ روپے میں حاصل کر لیا۔

ٹام کرن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 4.2 کروڑ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

فیصل اکرم کی بیس پرائز 1.1 کروڑ روپے تھی اور وہ 1.25 کروڑ روپے میں شامل ہوئے۔ عرافات منہاس کی بیس پرائز 1.1 کروڑ روپے تھی اور وہ اسی قیمت پر ٹیم کا حصہ بنے۔

راولپنڈی

نسیم شاہ کی بیس پرائز 4.2 کروڑ روپے تھی اور انہیں 8.65 کروڑ روپے میں خریدا گیا۔ محمد عامر کی بیس پرائز 4.2 کروڑ روپے تھی اور وہ 5.4 کروڑ روپے میں شامل ہوئے۔ رشاد حسین کی بیس پرائز 1.1 کروڑ روپے تھی اور انہیں 3 کروڑ روپے میں حاصل کیا گیا۔ عبداللہ فضل جن کی بیس پرائس 60 لاکھ روپے تھی وہ ساڑھے 67 لاکھ روپے میں فروخت ہوئے۔

عماد بٹ کی بولی ان کی بنیادی قیمت 60 لاکھ پاکستانی روپے سے شروع ہوئی جن کو راولپنڈی نے 80 لاکھ روپے میں حاصل کر لیا۔

آصف افریدی راولپنڈی کو 2.4 کروڑ روپے میں مل گئے۔

لارے ایونز راولپنڈی کو 1.1 کروڑ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

شہزیب خان راولپنڈی کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

محمد عامر خان راولپنڈی کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

فواد علی 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

کامران غلام کی بولی ان کی بنیادی قیمت 60 لاکھ روپے سے شروع ہوئی جن کو 65 لاکھ روپے میں حاصل کر لیا گیا۔

سیالکوٹ اسٹالینز

صاحبزادہ فرحان کی بیس پرائز 4.2 کروڑ روپے تھی اور انہیں 5.7 کروڑ روپے میں خریدا گیا۔ جبکہ جہانزیب سلطان کی بیس پرائز 60 لاکھ روپے تھی اور وہ اسی قیمت پر شامل ہوئے۔

ایشٹن ٹرنر کو 4.2 کروڑ پاکستانی روپے کی بنیادی قیمت پر خرید لیے گئے۔

تبریز شمسی 2.2 کروڑ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

پیٹر سڈل کی بولی ان کی بنیادی قیمت 2.2 کروڑ روپے سے شروع ہوئی جنہیں سیالکوٹ اسٹیلیئنز نے 2.5 کروڑ روپے میں حاصل کر لیا۔

ڈیلا نو پوٹگیٹر 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

لیک لن شاؤ کو ان کی 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر ہی حاصل کیا گیا۔

ڈیان فورسٹر راولپنڈی کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

شان مسعود کی بولی ان کی بنیادی قیمت 60 لاکھ روپے سے شروع ہوئی تھی جن کو سیالکوٹ اسٹالیئنز نے 65 لاکھ روپے میں حاصل کر لیا۔

جوش فلیپے کی بولی ان کی بنیادی قیمت 1.1 کروڑ روپے سے شروع ہوئی جن کو 2.3 کروڑ پاکستانی روپے میں حاصل کر لیا گیا۔

محمد اویس ظفر 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

مومن قمر کی بولی ان کی بنیادی قیمت 60 لاکھ روپے سے شروع ہوئی اور ان کو 1.07 کروڑ روپے میں حاصل کر لیا گیا۔

حیدرآباد ہیوسٹن کنگز مین

کوشال پریرا کی بیس پرائز 2.2 کروڑ روپے تھی اور انہیں 3.1 کروڑ روپے میں خریدا گیا جبکہ محمد علی کی بیس پرائز 1.1 کروڑ روپے تھی اور وہ 2.15 کروڑ روپے میں شامل ہوئے۔ حیدرآباد نے عرفان خان نیازی کو 2 کروڑ 90 لاکھ روپے میں خریدا۔ ان کی بیس پرائس ایک کروڑ ایک لاکھ روپے تھی۔

حماد اعظم حیدرآباد کنگز مین کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

اوٹنائل بارٹ مین 1.1 کروڑ روپے کی بنیادی قیمت پر حاصل کرلیا گیا۔

شایان جہانگیر حیدرآباد کنگز مین کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

حسن خان کی بولی ان کی بنیادی قیمت ایک کروڑ 10 لاکھ روپے سے شروع ہوئی۔ ان کو حیدرآباد کنگز مین نے حسن خان کو ایک کروڑ 85 لاکھ روپے میں حاصل کر لیا۔

رائلی میرڈت حیدرآباد کنگز مین کو 4.2 کروڑ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

رضوان محمود حیدرآباد کنگز مین کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

حنین شاہ حیدرآباد کنگز مین کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

آصف محمود حیدرآباد کنگز مین کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

شرجیل خان حیدرآباد کنگز مین کو 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر مل گئے۔

حیدرآباد کو طیب عارف اور سعد علی 60، 60 لاکھ روپے کی بنیادی قیمتوں پر مل گئے۔

کن کھلاڑیوں کو خریدار نہ ملا؟

مرزا مامون امتیاز، علی مجید، مومن قمر، پیٹر ہیٹزوگلو، ہمایوں الطاف، عارف یعقوب، محمد اخلاق، بین میکڈرموٹ، دنیش چندیمل، بھانوکا راجا پکشا، محمد حسنین، رومان رئیس، دلشان مدوشنکا، مہدی حسن مرزا، آصف آفریدی، دانش عزیز، محمد ذیشان، کائل میئرز، کولن منرو، محمد ریاض اللہ، کرس جارڈن، عمیر بن یوسف، جارج منسی، احسان اللہ، سعود شکیل، محمد غازی غوری، لٹن کمار داس، حسین طلعت، عماد وسیم، محمد شہزاد، حیدر علی، شان مسعود، آصف علی، اویشکا فرنینڈو، جیمز ونس، ولیم سدرلینڈ،  شاہنواز دہانی، جوش لٹل، رائلی میریڈتھ، محمد اعزاز، میر حمزہ، حنین شاہ، ٹام لیتھم، جوش فلپ، روبن ہرمن، مچل ہے، عمران طاہر، تنویر سنگھا، کیشو مہاراج، ڈیان فاریسٹر، اوڈین اسمتھ، ایون جونز، موئیسز ہنریکس، چرتھ اسالنکا، ول اسمیڈ، ڈیوڈ میلان، عثمان خواجہ، جیک ویدرالڈ، جیسن رائے، رچرڈ گلیسن، اسیتھا فرنینڈو، گیڈیون پیٹرز، ریس ٹوپلی، ثاقب محمود، میتھیو فورڈ، جیڈن سیلز، نقیب اللہ خان، اعزاز حبیب خان، سعید علی، احمد خان، ثقلین نواز، محمد عمار، سمیر ثاقب، یحییٰ بن عبدالرحمن، عباس علی، عبدالفصیح، راجہ حمزہ وحید، محمد الیاس خان، شارون سراج، محمد طیب عارف، احمد حسین، طیب عباس، سعد خان، عبید شاہد، علی رزاق، محمد عمران، رضوان اللہ، آفاق آفریدی، ابوذر، عمران شاہ، محمد ہریرہ، محمد شہباز، پرویز احمد، شہزیب خان، سراج الدین، ارشد اقبال، نعمان علی، ابوبکر، فہم الحق، محمد طٰہٰ، عمر صدیق، عامر یامین، محمد اکرم، علی شبیر، محمد سلمان، محمد رمیز جونیئر، حمزہ نظر، اسرار حسین، مرزا طاہر بیگ، محمد محسن، روایت خان، چڈ بوز، ول ینگ، لائیڈ پوپ، جارج گارٹن، بنورا فرنینڈو، مارک سٹی کیٹی، ہیری ٹریکٹر، کیمو پال، مارک ایڈیر، شریف الاسلام، بلیسنگ موزارابانی، جنید صدیق، ڈوین پریٹوریئس، ٹونی ڈی زورزی، توحید ہردوئے، پال سٹرلنگ، رچرڈ نگاروا، شیلڈن کوٹ ریل، پرویز حسین ایمون، شمیم حسین، شیمار بروکس، تنزی محسن ثاقب، تسکین احمد، ٹام مورز، پال وان میکرن، جیسن اسمتھ، ڈی آرسی شارٹ، لیام اسکاٹ، آندرے فلیچر، برینڈن مکملن، ہلٹن کارٹ رائٹ، کلیم ثنا، لارکان ٹکر، نیتھن سوٹر، فیبیان ایلن، لیزاد ولیمز، بلی اسٹینلیک، دشن ہیمنٹھا، لاری ایونز، ڈنیتھ ویللاج، جیک ویلڈر مٹھ، بینی ہاؤویل، حسن محمود، محمد وسیم، کرس گرین، جیفری وینڈرسی،  کرس جورڈن، ایون لیوس، عثمان خواجہ، کولن منرو، جیمز نیشم، ڈینیئل سیمز، چاریتھ اسلانکا، ٹائمل ملز، ثاقب محمود، ریس ٹاپلے، جیدن سیلز، ول سیمیڈ، مچل ہائے، لیام اسکاٹ، کرس گرین، بنورا فرنینڈو، دنیس چندیمال، بھانوکا راجاپکسا، ٹام مورز، کائل میئرز، بلیسنگ موزارابانی، ٹام لاٹہم، شکیب الحسن، تسکین احمد، میکس چو، ہلٹن کارٹ رائٹ، ارشد اقبال، اور راسی وین ڈر ڈسن کو کسی ٹیم نے نہیں خریدا۔

فرنچائزز کے پاس باقی بجٹ

پی ایس ایل 11 کی نیلامی میں متعدد کھلاڑی ایسے بھی رہے جنہیں کسی فرنچائز کی جانب سے کوئی بولی موصول نہیں ہوئی اور وہ اَن سُولڈ رہے۔ ان میں محمد غازی غوری، لٹن کمار داس اور کوسل مینڈس شامل تھے۔ اسی طرح ٹائمل ملز، نہید رانا اور الزاری جوزف کو بھی کوئی خریدار نہ مل سکا۔ ریلیزڈ بیٹرز کی کیٹیگری میں ہمایوں الطاف، طیب طاہر، محمد فائق، محمد عامر برکی، محمد ذوالکفل، فواد علی، نہید رانا اور راسی وین ڈر ڈوسن بغیر کسی بولی کے رہ گئے۔

آل راؤنڈرز میں شکیب الحسن، ڈینئیل سیمز اور علی عمران کو کسی ٹیم نے منتخب نہیں کیا، جبکہ اسپنرز کی فہرست میں مرزا مامون امتیاز، علی مجید، مومن قمر، پیٹر ہیٹزوگلو، عارف یعقوب، زاہد محمود اور گوداکیش موتی بھی اَن سولڈ رہے۔ وکٹ کیپرز کی کیٹیگری میں محمد اخلاق، بین میکڈرموٹ، دنیش چندیمل اور بھانوکا راجاپکسا کو بھی کوئی بولی نہ مل سکی۔

یہ بھی پڑھیے: پی ایس ایل 2026، پشاور زلمی نے آسٹریلوی آل راؤنڈر ایرون ہارڈی کو اسکواڈ میں شامل کرلیا

مزید برآں محمد حسنین، رومان رئیس اور دلشان مدوشنکا بھی خریدار حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ دیگر نمایاں ناموں میں مہدی حسن میراز، آصف آفریدی، دانش عزیز، محمد ذیشان، کائل میئرز، کولن منرو، محمد ریاض اللہ، کرس جارڈن، عمیر بن یوسف، جارج منسی، احسان اللہ، سعود شکیل اور حسین طلعت شامل ہیں۔ عماد وسیم بھی نیلامی میں پیش ہوئے مگر کسی ٹیم نے دلچسپی ظاہر نہ کی، جبکہ فہیم اشرف کے برعکس انہیں کوئی بولی نہ مل سکی اور وہ اَن سُولڈ رہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غزہ پر خاموشی قبول نہیں، اروندھتی رائے کا برلن فلم فیسٹیول میں شرکت سے انکار

ایم 9 موٹروے حادثہ: اموات کی تعداد 14 ہوگئی، 12 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے نکلا

رواں سال ڈیڑھ لاکھ افغانوں کی وطن واپسی، افغانستان میں صورتحال سنگین

عمران خان کو نجی اسپتال میں داخل کرانے کا مطالبہ، حکومت کا ردعمل آگیا

ٹی20 ورلڈ کپ: محسن نقوی کا پاک بھارت میچ دیکھنے کے لیے سری لنکا جانے کا امکان

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟