وفاقی حکومت نے گھریلو بجلی صارفین پر نئے ماہانہ فکسڈ چارجز عائد کرنے اور فی یونٹ نرخوں میں کمی کی تجویز پیش کردی ہے، جس کے نتیجے میں گھریلو صارفین سے سالانہ 132 ارب روپے اضافی وصول کیے جائیں گے جبکہ 101 ارب روپے کی سبسڈی صنعتی شعبے کو منتقل کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی کے گھریلوصارفین پر 1ہزار روپے تک فکسڈ چارجز عائد
یہ تجاویز نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ٹیرف کے بڑے پیمانے پر ڈھانچے کی تبدیلی کے سلسلے میں سماعت کے دوران پیش کی گئیں۔
پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ صارفین پر فکسڈ چارجز
مجوزہ منصوبے کے تحت پہلی بار پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ دونوں گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز لاگو ہوں گے۔ اس وقت تک صرف 300 یونٹس سے زیادہ استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین فکسڈ چارجز ادا کرتے تھے۔
پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے نرخ
100 یونٹس تک استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین سے 200 روپے ماہانہ جبکہ 200 یونٹس تک استعمال کرنے والوں سے 300 روپے ماہانہ فکسڈ چارج وصول کرنے کی تجویز ہے۔ ان 2 سلیبز میں سبسڈی 51 ارب روپے کم ہوکر مجموعی سبسڈی 423 ارب روپے رہ جائے گی۔
نان پروٹیکٹڈ صارفین پر بوجھ
نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے 100 یونٹس تک 275 روپے، 200 یونٹس تک 300 روپے اور 300 یونٹس تک 350 روپے ماہانہ فکسڈ چارج مقرر کرنے کی تجویز ہے، حکومت نے ان سلیبز سے مجموعی طور پر 50 ارب روپے کی سبسڈی واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اوگرا کا گھریلو صارفین پر بوجھ، فکسڈ گیس چارجز میں 50 فیصد تک اضافہ
301 سے 400 یونٹس استعمال کرنے والوں کے فکسڈ چارجز 200 سے بڑھا کر 400 روپے، 401 سے 500 یونٹس والوں کے 400 سے بڑھا کر 500 روپے جبکہ 600 یونٹس استعمال کرنے والوں کے 600 سے بڑھا کر 675 روپے کرنے کی تجویز ہے۔
جزوی ریلیف
700 یونٹس تک استعمال کرنے والوں کے فکسڈ چارجز میں 125 روپے کمی کر کے 675 روپے جبکہ 700 یونٹس سے زائد استعمال کرنے والوں کے فکسڈ چارجز میں 325 روپے کمی کر کے 675 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
فی یونٹ نرخوں میں کمی
حکومت نے گھریلو صارفین کے لیے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں بھی کمی تجویز کی ہے۔ 400 یونٹس استعمال کرنے والوں کو 1.53 روپے فی یونٹ، 500 یونٹس والوں کو 1.25 روپے فی یونٹ اور 600 یونٹس والوں کو 1.40 روپے فی یونٹ ریلیف ملے گا۔
یہ بھی پڑھیں: نیٹ میٹرنگ ختم، کیا سولر صارفین کے لیے بلنگ مہنگی ہو جائے گی؟
700 یونٹس والوں کو 0.91 روپے اور 700 یونٹس سے زائد استعمال کرنے والوں کو 0.49 روپے فی یونٹ کمی دی جائے گی۔
صنعتی شعبے کو سبسڈی کی منتقلی
پاور ڈویژن کے مطابق فکسڈ چارجز سے حاصل ہونے والے 101 ارب روپے صنعتی شعبے کو سبسڈی دینے کے لیے استعمال ہوں گے تاکہ معیشت کی بحالی میں مدد مل سکے۔
نیپرا کا فیصلہ جلد متوقع
نیپرا نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ سنانے کا عندیہ دیا ہے۔
سینیٹ اجلاس میں نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی پر ہنگامہ
سینیٹ اجلاس کے دوران نیپرا کی جانب سے نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی پر شدید تنقید کی گئی، سینیٹر ڈاکٹر زرقا سہروردی تیمور کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد مسترد کردی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: نیٹ میٹرنگ معطل، نیپرا کا پاور کمپنیوں کو انتباہ
پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر سید علی ظفر نے فیصلہ عوام سے بدترین ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے شمسی توانائی پر سرمایہ کاری کرنے والوں سے کیا گیا وعدہ توڑ دیا ہے۔
حکومتی مؤقف
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کہا کہ نیپرا نے آئین اور قانون کے مطابق ضوابط میں تبدیلی کی ہے اور موجودہ نیٹ میٹرنگ معاہدوں کی کسی شق کو واپس نہیں لیا گیا۔ ان کے مطابق ملک میں 30 ملین سے زائد بجلی صارفین ہیں جن میں سے 4لاکھ 66 ہزار 506 صارفین نیٹ میٹرنگ کے تحت 7 ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کررہے ہیں۔
عام صارفین کا تحفظ
وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ اگر نیٹ میٹرنگ موجودہ شرح پر جاری رہتی تو باقی 30.04 ملین صارفین کو 200 ارب روپے سے بڑھتا ہوا 550 ارب روپے تک کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑتا۔














