وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت افغانستان کے ساتھ حالت جنگ میں ہے، ملکی سیاست میں کوئی رخنہ نہیں ہونا چاہیے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہاکہ اگر وزیراعظم سے اپوزیشن لیڈر کی ملاقات ہوتی ہے تو یہ خوش آئند ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے محمود اچکزئی کو قائد حزب اختلاف بنانے کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان رمضان سے قبل افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت اگر پولیس کے ذریعے حالات کو کنٹرول کر سکتی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔
انہوں نے وفاق اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کے درمیان ورکنگ ریلیشن قائم ہونے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ ہم آہنگی پیدا ہونے سے ملک کی سیکیورٹی مضبوط ہوگی۔
خواجہ آصف نے کہاکہ سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے ملکی دفاع کے لیے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ بیرون ملک بیٹھے افراد اب بھی منفی پروپیگنڈا کررہے ہیں، لیکن ملک کے اندر موجود لوگ محتاط ہوگئے ہیں کیوں قانون حرکت میں آ سکتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے عمران خان کے ماضی کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ موجودہ حالات میں ان کی تبدیلی کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
خواجہ آصف نے 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بتایا کہ یہ آئندہ ایک دو مہینے میں آ جائےگی۔
مزید پڑھیں: بھارت افغانستان کے پیچھے چھپ کر پاکستان پر حملہ آور، ہمیں ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرنا ہوگا، خواجہ آصف
انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہاکہ آئینی ترمیم میں یکساں نصاب، فیملی پلاننگ اور لوکل گورنمنٹ سے متعلق قانون سازی شامل ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ آبادی میں بے لگام اضافہ ایک بڑا چیلنج ہے، جبکہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتیں لوکل گورنمنٹ کے معاملات پر مکمل اختیار رکھتی ہیں۔













