سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان برف پگھنے کی بات میں دور دور تک کوئی حقیقت نہیں، البتہ پی ٹی آئی میں برف پگھل رہی ہے جو پانی کی طرح رستہ بنا رہی ہے، یہی سیاست کا نام ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ ان کے 500 سے 5000 لوگوں کو لٹکانے والے بیان پر جو لوگ تنقید کررہے ہیں، ان کو میں کچھ سمجھتا ہی نہیں ہوں، ان لوگوں نے مجھے سینیٹر یا ایم این اے نہیں بنایا، تو مجھے کوئی غرض نہیں کہ یہ لوگ کیا سوچتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مائنس ون نہیں تو پوری پی ٹی آئی ختم، فیصل واوڈا نے سخت پیغام دے دیا
فیصل واوڈا نے کہا کہ انہوں نے کوئی نئی بات نہیں کی، جب وہ 2018 میں وزیر تھے تو انہوں نے یہی بات کی تھی، انہوں نے کہا کہ جب تک ملک میں سزا و جزا کا نظام نہیں ہوگا تو عام عوام کے مسائل کیسے حل ہوں گے، لوگ چاند پہ پہنچ گئے ہیں اور ہم گٹر کے ڈھکن پہ جشن منارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات ان کا قانونی حق ہے، اس پر آپ سیاست نہیں کرسکتے، یہ ملاقات ہوگئی، معلوم ہوگیا کہ وہ ٹھیک ہیں، ان کی آنکھ کا مسئلہ تھا، علاج ہوگیا تو انہیں ان کا حق مل گیا، بات تب کی جاتی اگر ان کے کان میں درد ہوتا اور صرف آنکھ کا علاج ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان برف پگھلنے والی بات میں کوئی حقیقت نہیں، البتہ ان کی پارٹی میں برف پگھل رہی ہے بالکل پانی کی طرح، یہ سیاست کا نام ہے، عمران خان کیا دے سکتے ہیں تو برف پگھلے گی۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر راج حقیقت بن سکتا ہے، فیصل واوڈا نے سہیل آفریدی کو خبردار کردیا
ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک عمران خان بنی گالہ شفٹ کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، ایسی کوئی خبر نہیں ہے نہ ایسی کوئی ڈیل ہے نہ ڈھیل ہے، کسی طرف سے بھی کوئی ایسی بات ہے ہی نہیں، ان کا معاملہ قانونی ہے۔
فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی کا کنٹینر ایسے ہی کھڑا رہے گا، کل کی میٹنگ میں سہیل آفریدی موجود تھے، صوبے میں آپریشن کی بات ہوئی، دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی بات ہوئی، وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کی بات ہوئی، صوبے میں ترقی اور لوگوں کے فلاح و بہبود کی بات ہوئی، پی ایس ایل کی بات ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات سے برف پگھل سکتی ہے، شروع دن سے کہہ رہا تھا کہ سہیل آفریدی بہت سمجھدار ہیں، وزیراعلیٰ کی کرسی پیسے سے نہیں خریدی جاسکتی، اگر وہ سمجھداری سے نہیں چلتے تو ان کے خلاف کیسز بھی ہیں، 9 مئی کیسز بھی ہیں، گورنر راج کا آپشن بھی ہے، ان کی نااہلی بھی ایک آپشن ہے۔











