’ووٹ کو عزت دو‘ کا نظریہ اپنی جگہ، یہ وقت مضبوط دفاع اور مستحکم معیشت کا ہے، سیّدہ نوشین افتخار

جمعرات 12 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان مسلم لیگ ن کی رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخار نے کہا ہے کہ ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نظریہ اپنی جگہ پر موجود ہے، لیکن یہ وقت مضبوط دفاع اور مستحکم معیشت کا ہے۔

’وی نیوز ایکسکلوسیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پارٹی میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی ایک مثبت اور خوش آئند تبدیلی ہے، جس کا کریڈٹ مریم نواز کی قیادت کو جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: وی ایکسکلیوسیو:ووٹ کو عزت دو کے لیے حکومتوں کی قربانی دینی ہوگی، خرم دستگیر

ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے ایوانوں میں آنے سے ہراسمنٹ، گھریلو تشدد، وراثتی حقوق اور ملازمتوں میں مساوی مواقع جیسے اہم موضوعات پر سنجیدہ قانون سازی اور بحث ممکن ہوئی ہے۔

سیّدہ نوشین افتخار نے کہاکہ ماضی میں مسلم لیگ ن کو قدامت پسند جماعت سمجھا جاتا تھا، تاہم اب پارٹی میں خواتین قیادت کا کردار نمایاں ہے۔ مریم نواز نے پارٹی کی کمان سنبھالنے کے بعد خواتین کو نہ صرف مخصوص نشستوں بلکہ براہ راست انتخابی سیاست میں بھی آگے آنے کے مواقع فراہم کیے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ خواتین سے متعلق مسائل پر صرف خواتین اراکین کو نہیں بلکہ مرد اراکین کو بھی بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ یہ پورے معاشرے کا معاملہ ہے۔ ہمارے مذہب میں خواتین کو عزت اور احترام کا بلند مقام حاصل ہے، جسے عملی طور پر اپنانے کی ضرورت ہے۔

’مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم پر کام کرتے ہوئے عزت اور حوصلہ افزائی ملی‘

پارٹی قیادت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم پر کام کرتے ہوئے عزت اور حوصلہ افزائی ملی۔ ’مریم نواز ہر معاملے کو باریک بینی سے دیکھتی ہیں، ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کو سمجھتی ہیں اور ٹیم ورک کے ذریعے ترجیحات کا تعین کرتی ہیں۔‘

بسنت کے انعقاد کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت نے سیکیورٹی اور ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرایا اور عوام نے بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، جس سے نہ صرف سماجی بلکہ معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملا۔

انہوں نے کہاکہ ثقافتی سرگرمیاں نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف لانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب گذشتہ برسوں میں سیاسی کشیدگی کے باعث نوجوان طبقہ مایوسی کا شکار رہا۔ ’بسنت جیسے تہواروں سے سیاحت اور معیشت کو بھی فائدہ پہنچا‘

’ڈسکہ ضمنی الیکشن کے موقع پر عوام نے بھرپور ساتھ دیا جس کے باعث سرخرو ہوئی‘

ماضی میں ڈسکہ کے ضمنی انتخاب کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سیدہ نوشین افتخار نے اسے ایک مشکل مرحلہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت انتخابی نتائج میں تاخیر اور فارم 45 میں ردوبدل کی کوششوں جیسے مسائل سامنے آئے، تاہم عوام نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور وہ اس آزمائش سے سرخرو ہو کر نکلیں۔

ثقافت اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ پاکستان کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ گردواروں اور دیگر مذہبی مقامات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ملک کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ کام کے تجربے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وہ نہایت محنتی اور فعال رہنما ہیں جنہوں نے مشکل حالات میں حکومت سنبھالی اور ملک کو استحکام کی طرف لے جانے کے لیے اہم اقدامات کیے۔ ان کے بقول موجودہ قیادت کی اولین ترجیح معاشی اور سیاسی استحکام ہے۔

’حکومت کی توجہ ملک کو معاشی اور دفاعی طور پر مضبوط بنانے پر ہے‘

مسلم لیگ ن کے بیانیے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ ’ووٹ کو عزت دو‘ کا مؤقف اپنی جگہ موجود ہے، تاہم اس وقت حکومت کی توجہ ملک کو معاشی، سیاسی اور دفاعی طور پر مضبوط بنانے پر ہے۔ کسانوں، خواتین، نوجوانوں اور صنعتکاروں سمیت تمام طبقات کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’ووٹ کو عزت دو‘ آج بھی ن لیگ کا بیانیہ ہے، لوگ اس کا مطلب غلط لیتے ہیں، انجم عقیل

دہشتگردی کے مسئلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ چیلنج صرف پاکستان کو نہیں بلکہ دیگر ممالک کو بھی درپیش ہے۔ قومی سلامتی کے معاملات پر تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہونا چاہیے۔ سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں پر ان کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے کیونکہ ملک کے دفاع اور سالمیت کے لیے مشکل فیصلے ناگزیر ہوتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

افغانستان، دہشتگردی اور پاکستان کی سفارتی حکمت عملی

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

پی ٹی آئی خیبر پختونخوا قیادت میں تبدیلی کی کوششیں تیز، نوجوان قیادت جنید اکبر کے خلاف کیوں؟

عثمان طارق کا ایکشن آئی سی سی قوانین کے مطابق ہے، بھارتی امپائر کا اعتراف، انڈین ٹیم میں خوف کا عالم

حکومت عالمی قوتوں کی پراکسی بننے کی کوشش نہ کرے، حافظ نعیم اور مولانا فضل الرحمان کی مشترکہ پریس کانفرنس

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟