بنگلہ دیش میں قومی تاریخ کے اہم ترین انتخابات میں سے ایک کا انعقاد کل (بروز جمعرات) کیا جارہا ہے، جہاں 127 ملین سے زیادہ ووٹرز 13ویں قومی پارلیمنٹ کے انتخابات کے ساتھ ساتھ ایک ملک گیر ریفرنڈم میں بھی حصہ لے رہے ہیں، جس کے ذریعے ملکی آئینی ڈھانچے میں بڑی اصلاحات کی راہ ہموار ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش انتخابات: 299 نشتوں کے لیے 2,028 امیدوار میدان میں
یہ انتخابات اگست 2024 کی طلبہ قیادت میں کے ملک گیر احتجاج اور انقلاب کے بعد پہلے عام انتخابات ہیں، جنہیں ملک کے جمہوری مستقبل کے لیے فیصلہ کن مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ملک بھر میں پولنگ صبح 7:30 بجے سے شام 4:30 بجے تک 299 حلقوں میں پولنگ ہوگی، تاہم شرپور-3 کے حلقے میں جماعتِ اسلامی کے امیدوار نورالزمان بدال کے انتقال کے باعث ووٹنگ معطل کردی گئی ہے۔
ووٹرز کو 2 بیلٹ پیپرز دیے جائیں گے، جن میں سفید بیلٹ پارلیمانی نمائندہ منتخب کرنے کے لیے جبکہ گلابی بیلٹ جولائی نیشنل چارٹر کے حق یا مخالفت میں ووٹ دینے کے لیے استعمال ہوگا۔

جولائی نیشنل چارٹر میں وزیراعظم کے لیے 2 مدتوں کی حد، نگران حکومت کے نظام کی بحالی اور پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا کے قیام جیسی اہم آئینی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں، جس کے تحت 100 نامزد ارکان شامل کیے جائیں گے۔
سیاسی منظرنامہ ماضی کے مقابلے میں یکسر مختلف ہے، کیونکہ کئی دہائیوں بعد عوامی لیگ انتخابات میں حصہ نہیں لے رہی۔ مقابلہ بنیادی طور پر بی این پی کی قیادت میں اتحاد اور جماعتِ اسلامی کی سربراہی میں 11 جماعتی اتحاد کے درمیان ہے، جبکہ نیشنل سٹیزن پارٹی بھی میدان میں موجود ہے۔
جماعت اسلامی نے الیکشن مہم کے آخری روز بنگلہ دیش کے طول و عرض میں انتخابی ریلیوں اور جلسوں سے اپنی طاقت اور تنظیم کا احساس دلایا۔ pic.twitter.com/3MoNL24gis
— Bangla Urdu | بنگلہ اردو (@BanglaUrdu_) February 10, 2026
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں عام انتخابات کی تیاریاں مکمل، 394 بین الاقوامی مبصرین، 197 غیرملکی صحافی مشاہدہ کریں گے
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ انتخابات صرف حکومت کے انتخاب تک محدود نہیں بلکہ درحقیقت ریاستی نظام کی تشکیلِ نو پر عوامی رائے شماری بھی ہیں۔ ریفرنڈم کے نتائج اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا بنگلہ دیش مستقبل میں مضبوط پارلیمانی توازن اور آئینی تحفظات کی جانب بڑھے گا یا نہیں۔
ایک جانب بی این پی کی قیادت میں اتحاد ہے، جس کی سربراہی طارق رحمان کر رہے ہیں، جو 17 سالہ جلاوطنی کے بعد واپس آ کر جمہوریت کی بحالی، معاشی بہتری اور ریاستی اداروں کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کرانے کے نعرے کے ساتھ مہم چلا رہے ہیں۔

دوسری جانب جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن کی قیادت میں 11 جماعتی اتحاد ہے، جس کے ساتھ نیشنل سٹیزن پارٹی بھی شامل ہے، جس کی قیادت نہید اسلام کر رہے ہیں، اور یہ جماعت گزشتہ سال کی طلبہ تحریک کے نتیجے میں وجود میں آئی۔
چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے قوم سے خطاب میں ان انتخابات اور ریفرنڈم کو بنگلہ دیش کے جمہوری سفر کا سنگِ میل قرار دیا اور نوجوان ووٹرز پر زور دیا کہ وہ ذمہ دار اور عوامی امنگوں کے مطابق نمائندے منتخب کریں۔
ایک ہی نعرہ دھاری پلہ (ترازو جماعت اسلامی کا نشانہ ہے ) بنگلہ دیش کے لوگ مختلف علاقوں سے اپنے آبائی علاقوں میں پہنچ رہیں ہیں تاکہ وہ 12 فروری کو عام انتخابات میں حصہ لے سکے جماعت اسلامی کافی مضبوط پوزیشن میں نظر آرہی ہے کیونکہ جین زی جہنوں نے حسنیہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹایا… pic.twitter.com/y4BVdQrjk2
— محفوظ الرحمن اعوان (@mahfooz51871) February 10, 2026
انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے ملک بھر میں تقریباً 10 لاکھ سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نگرانی کے لیے ڈرونز، باڈی کیمرے اور سی سی ٹی وی کیمروں کا وسیع نیٹ ورک استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں عام انتخابات جمعرات کو، ملک میں 4 روزہ تعطیلات کا اعلان
الیکشن کمیشن کے مطابق 90 فیصد سے زائد پولنگ اسٹیشنز سی سی ٹی وی کی نگرانی میں ہیں، جبکہ 45 ممالک اور عالمی اداروں کے مبصرین بھی انتخابی عمل کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

مجموعی طور پر 50 سیاسی جماعتیں انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں، جو گزشتہ تین انتخابات کے برعکس ہے جہاں کئی بڑی اپوزیشن جماعتوں نے بائیکاٹ کیا تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق رجسٹرڈ ووٹرز میں تقریباً 44 فیصد افراد کی عمر 18 سے 37 سال کے درمیان ہے، جو ان انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ خواتین ووٹرز کی تعداد 62.88 ملین ہے، جبکہ 2.7 ملین خواتین پہلی بار ووٹ ڈال رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آج کا دن نہ صرف نئی حکومت کے تعین بلکہ بنگلہ دیش کے آئینی اور سیاسی مستقبل کی سمت طے کرنے میں بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
بشکریہ: ڈھاکہ ٹریبون














