بنگلہ دیش بھر میں قومی پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ کا عمل پُرامن ماحول میں جاری ہے، جہاں نوجوانوں سے لے کر سیاسی قائدین تک نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق 64 اضلاع میں قائم 42 ہزار 761 پولنگ مراکز پر 300 پارلیمانی حلقوں کے لیے ووٹ ڈالے جارہے ہیں، اور اس جمہوری عمل میں شہریوں نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش انتخابات: 299 نشتوں کے لیے 2,028 امیدوار میدان میں
ڈھاکہ کے مختلف پولنگ مراکز پر صبح سے ہی ووٹرز کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا، جہاں وقارالنسا نون اسکول اینڈ کالج کی طالبہ عافیہ جنت نے اپنی زندگی کا پہلا ووٹ کاسٹ کیا۔
ٹیکاٹولی کے قمرالنسا گرلز ہائی اسکول پولنگ سینٹر کے باہر اپنی والدہ کے ہمراہ کھڑی عافیہ نے اس موقع کو اپنی نسل کے لیے غیر معمولی قرار دیا۔

’جولائی کی تحریک اور اس میں دی جانے والی قربانیوں نے اس انتخاب کو ایک خاص معنی دے دیا ہے، پہلی بار شہری حق استعمال کرنے کا تجربہ خوشگوار رہا اور پولنگ سینٹر کا ماحول منظم اور سازگار تھا۔‘
عافیہ کے مطابق نوجوان ووٹرز کے لیے یہ انتخاب محض آئینی تقاضا نہیں بلکہ طلبا تحریک کے تسلسل کی علامت بھی ہے جس نے ملک کی سیاسی سمت کو بدل کر رکھ دیا۔
مزید پڑھیں:بنگلہ دیش میں تاریخی انتخابات، آئینی ڈھانچے میں بڑی اصلاحات کی راہ ہموار
سیاسی قیادت نے بھی مختلف علاقوں میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی یعنی بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے ٹھاکرگاؤں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول میں حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
نیشنل سٹیزنز پارٹی یعنی این سی پی کے کنوینر ناہید اسلام نے اے کے ایم رحمت اللہ یونیورسٹی کالج میں ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کی، ادھر بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے میرپور کے منی پور ہائی اسکول میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

یورپی یونین کے انتخابی مبصر مشن کے سربراہ آئیورس ایجابس نے بھی ڈھاکہ میں پولنگ کے آغاز کا مشاہدہ کیا اور اسے بنگلہ دیش کی جمہوریت کے لیے بڑا دن قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی انتخابات اور ریفرنڈم کا بیک وقت انعقاد ملک کے جمہوری عمل کی اہم پیش رفت ہے، اور مبصرین ملک بھر میں ووٹنگ کے عمل کا جائزہ لے رہے ہیں۔
مجموعی طور پر انتخابی دن کو نوجوانوں کے جوش، سیاسی قیادت کی شرکت اور بین الاقوامی مبصرین کی موجودگی نے ایک اہم جمہوری مرحلے کی صورت دے دی ہے، جسے کئی شہری مستقبل کی سیاسی سمت کے تعین میں فیصلہ کن قرار دے رہے ہیں۔












