بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین اور ڈھاکہ-17 سے جماعت کے انتخابی نشان ’دھان کی بالی‘ کے امیدوار طارق رحمان نے ووٹ ڈالنے کے بعد اپنی کامیابی کے حوالے سے بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’100 فیصد پُرامید‘ ہیں کہ کامیابی ان ہی کی ہوگی۔
طارق رحمان نے جمعرات کی صبح گلشن کے ایک پولنگ اسٹیشن پر ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کے عوام اس دن کا ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے انتظار کر رہے تھے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ شہری بھرپور جوش و خروش کے ساتھ ووٹنگ میں حصہ لیں گے اور ملک میں ’ایک نئے جمہوری بنگلہ دیش‘ کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
سیکیورٹی صورتحال پر اطمینان
رات کے دوران پیش آنے والے چند چھوٹے واقعات کے حوالے سے سوال پر طارق رحمان نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مؤثر اور سخت کارروائی کی، جو ایک حوصلہ افزا بات ہے۔
انہوں نے ووٹرز اور پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ پورا دن پولنگ اسٹیشنز پر مستعد رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی بھرپور شرکت کسی بھی ’سازش کو ناکام بنانے‘ میں مددگار ثابت ہوگی۔
انتخابی نتائج سے متعلق سوال پر طارق رحمان نے پراعتماد انداز میں کہا کہ وہ اور ان کی جماعت ’کامیابی کے لیے مکمل طور پر پُرامید‘ ہیں۔
حکومت بنی تو پہلی ترجیح کیا ہوگی؟
طارق رحمان نے کہا کہ اگر ان کی جماعت حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تو امن و امان کی بہتری اولین ترجیح ہوگی تاکہ عام شہری خود کو ملک میں محفوظ محسوس کریں۔
انہوں نے خواتین کی شمولیت اور بااختیار بنانے پر بھی زور دیا اور کہا کہ خواتین آبادی کا نصف حصہ ہیں اور انہیں نظر انداز کرکے ترقی ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیے جولائی تحریک کی بازگشت: بنگلہ دیش میں نوجوانوں کے جوش کے ساتھ ووٹنگ جاری
ملک بھر میں ووٹنگ کے مجموعی ماحول سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ فی الحال کوئی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا، وہ صورتحال کا مزید جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی تبصرہ کریں گے۔
اپنی گفتگو کے اختتام پر طارق رحمان نے ملک کے لیے پرامن اور مستحکم مستقبل کی امید کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔














