بنگلہ دیش میں آج ملک کی سیاست کے منظرنامے میں اہم تبدیلی کے بعد پہلے عام انتخابات ہو رہے ہیں۔
الجزیرہ نے کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی مذہبی اور قدامت پسند پارٹی ملک کی سیاست میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھر رہی ہے، جو طویل عرصے تک عوامی لیگ (Awami League) اور بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (BNP) کے زیر اثر تھی۔
مقامی شہریوں نے بتایا کہ کئی سالوں بعد انہیں مقابلہ جاتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا موقع ملا ہے، اور وہ تبدیلی کی امید کے ساتھ ووٹنگ کر رہے ہیں۔
شیخ حسینہ کی قیادت والی پچھلی حکومت کے دوران جماعت اسلامی کو دہائیوں تک انتخابات میں حصہ لینے سے روکا گیا۔ اس دوران پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں کوپھانسی دے دی گئی یا انہیں جیل میں بند کردیا گیا یا پھر لاپتہ کردیے گئے۔ جماعت کی جڑیں 1940 کی دہائی میں بھارت میں قائم ایک پان اسلامسٹ تحریک تک جاتی ہیں۔
حریف حلقوں کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی اب بھی ایک اسلامی ریاست چاہتی ہے، لیکن جماعت خود دعویٰ کرتی ہے کہ اس کا سیاسی پروگرام بنگلہ دیش کے سیکولر نظام کے دائرے میں ہے۔
2024 میں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والی تحریک نے حسینہ کو بھارت بھجوا دیا اور عبوری حکومت نے جماعت پر عائد پابندیاں ختم کر دی۔ اب جماعت اسلامی سیاسی میدان میں قدم جما رہی ہے۔
اگرچہ جماعت کے ناقدین اس پر خواتین کے حقوق اور مذہبی اقلیتوں کے مسائل کے حوالے سے تنقید کرتے ہیں، لیکن بعض شہریوں کا خیال ہے کہ یہ پارٹی انتہا پسندی کی طرف نہیں جائے گی کیونکہ اس کے ڈھانچے میں خواتین بھی سرگرم ہیں اور پارٹی کی تنظیم بندی مستحکم ہے۔
عوامی لیگ کے میدان سے باہر ہونے کے بعد، جماعت اسلامی خود کو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کا اہم حریف ثابت کر رہی ہے۔ موجودہ سروے اور پولز سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان مقابلہ بہت سخت ہے، اس لیے انتخابات کا نتیجہ غیر یقینی ہے۔














