تیونس کی معروف ہدایتکارہ کاوتر بن ہانیا نے اپنی فلم The Voice of Hind Rajab ’دی وائس آف ہند رجب‘ کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ فلم 6 سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کی کہانی کو منظرِ عام پر لانے اور ہمدردی پیدا کرنے کے لیے بنائی گئی ہے، نہ کہ کسی تحقیق یا ذمہ داری کے تعین کے لیے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ فلم حقیقی واقعات پر مبنی ہے اور اس لیے بنائی جاتی ہے تاکہ بے بسی کا سامنا کیا جا سکے اور ان کی کہانی کو منظرِ عام پر لایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: بریڈ پٹ، واکین فینکس اور رونی مارا کی غزہ پر مبنی فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ میں شمولیت
بن ہانیا نے بتایا کہ انہوں نے یہ پروجیکٹ اس وقت شروع کیا جب انہوں نے 2024 میں غزہ شہر میں پھنسی ہند کی ہنگامی کال ریکارڈنگ سنی جس میں بچی خوفزدہ انداز میں مدد کی اپیل کر رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں غصے، افسوس اور بے بسی میں تھی۔ میں نے سوچا کہ میں کیا کر سکتی ہوں۔ میں ایک فلم ساز ہوں، اس لیے میں فلم بناتی ہوں‘۔
فلم میں ریڈ کریسنٹ کال سینٹر کے کارکنوں کے نقطۂ نظر سے کہانی بیان کی گئی ہے اور ہند کی آخری کالز کی اصل آڈیو کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کا ’ٹائنی اسپیس‘ پروجیکٹ کیا ہے؟
یہ فلم وینس فلم فیسٹیول میں پیش کی گئی جہاں اسے 23 منٹ کی طویل اسٹینڈنگ اوویشن ملی اور اسے گولڈن گلوب کے لیے بہترین غیر ملکی فلم کی نامزدگی اور آسکر کی شارٹ لسٹ میں جگہ ملی۔
بن ہانیا کا کہنا ہے کہ یہ فلم ہند رجب کو یاد رکھنے اور ان کی کہانی کو فراموش نہ کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔ ’یہ صرف ایک کہانی نہیں، یہ تاریخ ہے جو بن رہی ہے‘۔
واضح رہے کہ ہند اپنے انکل، آنٹی اور تین کزنز کے ساتھ ایک محفوظ مقام کی طرف جا رہی تھی کہ اسرائیلی ٹینک نے ان کی گاڑی پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ جس میں کئی رشتہ دار شہید ہو گئے۔ بعد ازاں ہند نے فلسطینی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے رضا کاروں سے رابطہ کیا جو ایمبولینس کو پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ایوارڈ یافتہ فلسطینی صحافی بسان عودہ کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ بحال
فون پر ہند کہہ رہی تھی کہ اسے گولیوں اور اندھیرے سے بہت ڈر لگ رہا ہے۔ یہ کال ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ وہ روتی رہی، ڈرتی رہی اور مسلسل کہتی رہی کہ اسے وہاں سے نکال لیا جائے۔
جو امدادی کارکن ہند کو بچانے گئے انہیں بھی اسرائیل نے مار ڈالا۔ ہند کے تمام رشتہ دار فائرنگ میں جان سے گئے اور آخرکار وہ ننھی بچی بھی دم توڑ گئی۔ دس دن بعد امدادی ادارے اس کی لاش تک پہنچ سکے۔ کچھ فاصلے پر انہی امدادی کارکنوں کی لاشیں بھی ملیں جو اسے بچانے گئے تھے۔












