ماہرین صحت کے مطابق ذیابطیس (شوگر) گردوں کے لیے ایک خاموش مگر سنگین خطرہ بن سکتی ہے، خاص طور پر جب خون میں شوگر کی سطح طویل عرصے تک زیادہ رہے۔ گردے جسم کا اہم فلٹر ہیں جو خون سے اضافی پانی، نمکیات اور فاسد مادے خارج کرتے ہیں، تاہم مسلسل بلند شوگر انہیں بتدریج نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ذیابطیس کے مریضوں میں گردوں کی بیماری ایک عام اور خطرناک پیچیدگی ہے۔ زیادہ شوگر گردوں کی باریک خون کی نالیوں کو متاثر کرتی ہے، جس سے فلٹرنگ کا نظام کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں پیشاب میں پروٹین آنا شروع ہو سکتی ہے، جسے مائیکرو البیومین یوریا کہا جاتا ہے اور یہ گردوں کی خرابی کی پہلی علامت سمجھی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں: روبوٹ کے ذریعے گردے کی کامیاب سرجری، یہ انسانوں سے بہتر ثابت ہوں گے، ماہرین
ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر اور ذیابطیس ایک دوسرے کو مزید خراب کرتے ہیں، جس سے گردوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ صورتحال دائمی گردوں کی بیماری (Chronic Kidney Disease) یا گردوں کی ناکامی تک جا سکتی ہے۔

اہم علامات:
ٹخنوں یا پیروں میں سوجن
پیشاب میں جھاگ
غیر معمولی تھکن اور کمزوری
بھوک میں کمی
بلڈ پریشر کا بار بار بڑھنا
ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ ان علامات کی صورت میں فوری طور پر گردوں کے ٹیسٹ کروائے جائیں۔
مزید پڑھیں: خالدہ ضیا کی حالت گردے ناکارہ ہونے کے بعد مزید تشویشناک، وینٹی لیٹر پر منتقل
احتیاطی تدابیر:
ماہرین کے مطابق شوگر اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنا، نمک کا کم استعمال، مناسب مقدار میں پانی پینا، سگریٹ نوشی سے پرہیز اور سال میں کم از کم ایک بار گردوں کے ٹیسٹ (UACR اور کریٹینین) کروانا نہایت ضروری ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گردے خاموشی سے کام کرتے ہیں اور اکثر خاموشی سے ہی متاثر ہو جاتے ہیں، اس لیے باقاعدہ معائنہ اور احتیاط ہی گردوں کی بہترین حفاظت ہے۔













