ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرتے ہوئے نئی جنگ بھڑکائی جا سکے۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ کے دورے کے دوران الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں لاریجانی نے کہا کہ اسرائیل مذاکرات کو پٹری سے اتارنے کے لیے مختلف بہانے تراش رہا ہے، جبکہ امریکا کے ساتھ بات چیت ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی، برطانیہ کا قطر میں ٹائفون جنگی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ
’ہمارے مذاکرات صرف امریکا کے ساتھ ہیں، اسرائیل کے ساتھ ہماری کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، تاہم اسرائیل نے خود کو اس عمل میں داخل کر لیا ہے اور اس کا مقصد ان مذاکرات کو کمزور اور ناکام بنانا ہے۔‘
لاریجانی کے مطابق اسرائیل کی حکمت عملی پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے اور اس کا ایجنڈا صرف ایران تک محدود نہیں۔
'Israel’s strategy is to destabilise the region'
Iran’s security chief Ali Larijani accuses Israel of trying to sabotage US negotiations https://t.co/R6AFIVML8a pic.twitter.com/gqew5pPldY
— Al Jazeera English (@AJEnglish) February 12, 2026
انہوں نے ستمبر میں دوحہ میں حماس عہدیداروں کو نشانہ بنانے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نہ صرف ایران بلکہ قطر، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ بھی ’جوا کھیل رہا ہے‘۔
انہوں نے علاقائی رہنماؤں کو اس حوالے سے خبردار رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ جون میں ایران پر اسرائیلی حملہ ایسے وقت ہوا جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان کئی دور کی بات چیت جاری تھی، جس سے مذاکرات عملاً سبوتاژ ہو گئے۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقات
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان عمان کے دارالحکومت مسقط میں بالواسطہ مذاکرات کا ایک دور منعقد ہوا، جس کا مقصد جوہری تنازع کا حل تلاش کرنا تھا۔
یہ بات چیت ایسے وقت ہو رہی ہے جب امریکا نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو مطالبات تسلیم نہ کرنے کی صورت میں حملے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی، برطانیہ کا قطر میں ٹائفون جنگی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ
مجوزہ دوسرے دور کے مذاکرات کے تناظر میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے واشنگٹن کا ہنگامی دورہ کیا اور ٹرمپ سے ملاقات کی، جہاں انہوں نے ایران سے مذاکرات کے لیے چند ’اصول‘ پیش کیے۔
ملاقات کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے حوالے سے ’کوئی حتمی فیصلہ‘ نہیں ہوا، البتہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات جاری رہیں تاکہ ممکنہ معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
مشترکہ نکات اور اختلافات
لاریجانی نے کہا کہ مسقط میں ہونے والی بات چیت دراصل پیغامات کے تبادلے تک محدود رہی اور ابھی تک امریکا کی جانب سے کوئی باقاعدہ تجویز موصول نہیں ہوئی۔
ان کے مطابق تہران مذاکرات کے حوالے سے مثبت رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور واشنگٹن بھی بظاہر بات چیت کو ترجیحی راستہ سمجھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اس بات پر مشترکہ نقطہ نظر پایا جاتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، اور تہران کا مؤقف ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا خواہاں نہیں۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا سے جوہری مذاکرات کے لیے تیار، بڑی شرط رکھ دی
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات صرف ایران کے جوہری پروگرام تک محدود رہیں گے، ایران کا میزائل پروگرام یا دیگر دفاعی امور بات چیت کا حصہ نہیں ہوں گے۔
’ہمارا میزائل پروگرام جوہری پروگرام سے مکمل طور پر الگ ہے، یہ ہمارا داخلی اور قومی سلامتی سے متعلق معاملہ ہے، اس لیے اسے مذاکرات میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔‘
اسی طرح ایران کی یورینیم افزودگی کو صفر پر لانے کی تجویز کو بھی انہوں نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جس ملک نے یہ ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہو، اس کے لیے اسے مکمل طور پر ترک کرنا عملی طور پر ممکن نہیں۔
مزید پڑھیں: ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو امریکا کسی بھی آپشن سے گریز نہیں کرےگا، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
انہوں نے کہا کہ افزودہ یورینیم کینسر کے علاج جیسے پرامن مقاصد کے لیے درکار ہوتا ہے، اور ایران اپنے جوہری مراکز کے معائنے کے لیے تصدیقی عمل پر آمادہ ہے۔
لاریجانی نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے جون کی طرح دوبارہ ایران پر حملہ کیا تو تہران خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔
دوحہ روانگی سے قبل علی لاریجانی نے حماس کی قیادت کونسل کے سربراہ محمد درویش اور دیگر رہنماؤں سے بھی ملاقات کی، جس میں خطے کی تازہ سیاسی صورتحال اور غزہ کی جنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔














