ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو امریکا کسی بھی آپشن سے گریز نہیں کرےگا، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

بدھ 11 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور طیارہ بردار بحری بیڑہ تعینات کرنے پر غور کررہے ہیں، جس سے ایران پر فوجی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہاکہ سفارتی عمل کے لیے وقت محدود ہے اور واشنگٹن کسی بھی آپشن سے گریز نہیں کرے گا۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران جوہری مذاکرات میں بڑی پیشرفت، ایرانی صدر نے اہم ہدایات جاری کردیں

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے دوسرے دور کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ابتدائی بات چیت گزشتہ جمعہ کو عمان میں ہوئی تھی، جو گزشتہ برس اسرائیل اور امریکا کی جانب سے کیے گئے حملوں کے بعد پہلا رابطہ تھا۔

ٹرمپ نے منگل کو ایک انٹرویو میں کہاکہ ایک بحری بیڑہ پہلے ہی خطے کی جانب بڑھ رہا ہے اور ممکن ہے دوسرا بھی روانہ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ یا تو معاہدہ ہوگا یا پھر امریکا کو سخت اقدام کرنا پڑے گا، جیسا کہ جون 2025 میں ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان میں جوہری تنصیبات پر فضائی حملوں کی صورت میں کیا گیا تھا۔

امریکی صدر کا دعویٰ تھا کہ تہران اب زیادہ سنجیدگی سے بات چیت کررہا ہے کیونکہ اسے یقین ہو چکا ہے کہ واشنگٹن طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا۔ ان کے بقول ایرانی قیادت نے ماضی میں صورتحال کا غلط اندازہ لگایا۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیاکہ وہ ایران کے جوہری پروگرام پر کسی آسان معاہدے کے ساتھ ساتھ اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بھی بات کرنا چاہتے ہیں۔

ایران نے جوہری پروگرام سے ہٹ کر کسی بھی موضوع پر مذاکرات کو مسترد کردیا

دوسری جانب ایران نے جوہری پروگرام سے ہٹ کر کسی بھی موضوع پر مذاکرات کو مسترد کردیا ہے اور یورینیم افزودگی کے حق سے دستبردار ہونے سے انکار کیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ یورینیم افزودگی خودمختاری کا معاملہ ہے۔

ان کے مطابق ایران اپنے جوہری پروگرام کے پرامن مقاصد واضح کرنے کے لیے تیار ہے، مگر صفر افزودگی کا مطالبہ چاہے جنگ کی دھمکی ہی کیوں نہ دی جائے، قبول نہیں کیا جائے گا۔

ایران نے اپنے میزائل پروگرام پر بات چیت سے بھی انکار کرتے ہوئے اسے دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے۔

ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ فوجی کارروائی کی تو خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق گزشتہ حملوں اور ایران کی سرحدوں کے قریب بڑھتی امریکی فوجی موجودگی کے باعث اعتماد کا فقدان مزید گہرا ہو چکا ہے۔

مزید پڑھیں: مظاہروں کے دوران امریکا ایران کیخلاف فوجی اقدامات پر غور کررہا ہے، سی این این کا دعویٰ

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بدھ کو واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔

نیتن یاہو نے کسی وسیع معاہدے کے امکانات پر شکوک کا اظہار کیا ہے، تاہم ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی قیادت بھی ایک اچھے معاہدے کی خواہاں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

دنیا کے تیز ترین موٹرائزڈ لکڑی کے جوتے نے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار کا ریکارڈ قائم کردیا

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی