1993 کے اوسلو امن معاہدے کے مرکزی معمار اور نارویجن سفارتکار ٹرجے روڈ لارسن پر بدعنوانی اور بلیک میلنگ کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔
امریکی محکمہ انصاف کی نئی دستاویزات اور نارویجن میڈیا تحقیقات کے مطابق لارسن کے بدنام زمانہ مالیاتی شخصیت جیفری ایپسٹین سے قریبی روابط تھے، جن میں مشکوک قرضے، مبینہ ویزا فراڈ اور ایپسٹین کی وصیت میں ان کے بچوں کے لیے کروڑوں ڈالر کی رقم شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’ایپسٹین فائلز ’خالص جہنم‘ ہیں، مغربی ادارے بچوں کی اسمگلنگ چھپاتے رہے، ماسکو
رپورٹس کے مطابق لارسن نے نیویارک میں انٹرنیشنل پیس انسٹیٹیوٹ کے سربراہ کی حیثیت سے ایپسٹین سے منسلک نوجوان روسی خواتین کے لیے امریکی حکام کو سفارشی خطوط لکھے، جنہیں ’غیر معمولی صلاحیتوں‘ کی حامل قرار دیا گیا، حالانکہ ان پر انسانی اسمگلنگ اور استحصال کے الزامات تھے۔
Mona Juul and Terje Roed Larsen, the Norwegian husband and wife team that were the architects of the disastrous Oslo process (which side-stepped international law, devastated Palestinian rights for three decades, and consolidated the Israel regime’s unlawful position in…
— Craig Mokhiber (@CraigMokhiber) February 3, 2026
دستاویزات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایپسٹین نے 2013 میں لارسن کو 1 لاکھ 30 ہزار ڈالر قرض دیا، جبکہ اپنی وصیت میں ان کے 2 بچوں کے لیے مجموعی طور پر ایک کروڑ ڈالر مختص کیے۔
اس انکشاف کے بعد لارسن کی اہلیہ اور اردن اور عراق میں ناروے کی سفیر مونا جول اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئی ہیں اور ان کی سیکیورٹی کلیئرنس بھی واپس لے لی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: ایپسٹین فائلز نے میری ازدواجی زندگی کی تکلیف دہ یادیں تازہ کر دیں، میلنڈا فرنچ گیٹس
فلسطینی رہنماؤں نے اوسلو معاہدے کی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ممکن ہے مذاکرات کسی ایسے ثالث کے ذریعے ہوئے ہوں جو بیرونی دباؤ یا بلیک میلنگ کا شکار تھا۔
فلسطینی نیشنل انیشی ایٹو سیاسی جماعت کے سیکریٹری جنرل مصطفیٰ البرغوثی کا کہنا ہے کہ وہ بدعنوانی کے الزامات پر بالکل بھی حیران نہیں۔
’ہمیں ابتدا ہی سے اس شخص کے بارے میں کبھی اطمینان نہیں تھا، اوسلو ایک جال تھا اور مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹرجے روڈ لارسن پورے عرصے میں مؤثر طور پر اسرائیلی فریق کے زیرِ اثر رہے۔‘
مزید پڑھیں: جیفری ایپسٹین فائلز میں نام آنے پر اہم برطانوی سیاستدان پارٹی رکنیت سے مستعفی
مصطفیٰ البرغوثی کا کہنا تھا کہ ایپسٹین جیسی مبینہ طور پر موساد سے منسلک شخصیت کی جانب سے روڈ لارسن کے خاندان کو ممکنہ طور پر لاکھوں ڈالر کی منتقلی کا انکشاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ بدعنوانی ’فلسطینی عوام کے مفادات کے برخلاف اسرائیل کے مفادات کی خدمت کے لیے کی گئی تھی۔‘
لاکھوں دستاویزات کے اجرا کے بعد بدنامِ زمانہ ایپسٹین اور اسرائیل کے درمیان روابط بھی نمایاں طور پر سامنے آ گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایپسٹین فائلز سے ٹرمپ کی تصویر ہٹانے پر طوفان، محکمہ انصاف تصویر بحال کرنے پر مجبور
دستاویزات میں ایپسٹین کے اسرائیلی شخصیات اور اداروں سے روابط کا بھی ذکر ہے، جس کے بعد ناروے میں 1993 کے خفیہ مذاکرات کے نجی ریکارڈ کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
حکام نے اسکینڈل کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ اس پیش رفت نے مشرقِ وسطیٰ امن عمل کی تاریخ پر ایک اور سوالیہ نشان ڈال دیا ہے۔













