جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ اگر مسلح افواج اپنی ذمہ داریاں خلوص نیت سے ادا کریں تو دن کے اختتام تک قوم کو ’اچھا الیکشن‘ مل سکتا ہے، تاہم انہوں نے ملک کے مختلف حصوں میں پرتشدد واقعات اور بے ضابطگیوں کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
وہ ڈھاکہ 15 کے حلقے میں اپنے مرکزی انتخابی دفتر میں دوپہر 2 بجے کے بعد بریفنگ دے رہے تھے۔
’اچھا الیکشن ہوگا تو اچھی حکومت بنے گی‘
شفیق الرحمان نے کہا کہ اگر مسلح افواج دیانتداری سے اپنی ڈیوٹی انجام دیں تو ہمیں امید ہے کہ دن کے اختتام تک قوم کو اچھی ووٹنگ اور اچھا الیکشن ملے گا۔
"People's demands change, their desires change, we also deserve the change" said Jamaat‑e‑Islami party chief Shafiqur Rahman, after he cast his vote at a polling station in the capital Dhaka.
Jamaat e Islami#VoteForDaripalla#BangladeshElections2026 pic.twitter.com/HjuNE9T0On— sanah khamisani GFX artist 🇵🇰🇵🇸 (@sanahkhamisani) February 12, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اچھا الیکشن ہوگا تو اچھی حکومت بنے گی، ایسی حکومت جو عوام کے بارے میں سوچے گی۔ لیکن اگر دھاندلی اور جعلسازی سے حکومت بنی تو وہ عوام کے دکھ درد کو نہیں سمجھے گی اور نہ ہی ان سے اس کا کوئی رشتہ ہوگا۔
ووٹنگ کا تجربہ اور ٹرن آؤٹ
جماعتِ اسلامی کے امیر نے صبح میرپور کے 60 فٹ علاقے میں منی پور ہائی اسکول (بوائز سیکشن) کے پولنگ اسٹیشن پر اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ وہاں صورتحال معمول کے مطابق تھی اور ووٹرز کی موجودگی نمایاں تھی۔ بعد میں میں نے کئی مراکز کا دورہ کیا۔ ایک دو مراکز کے علاوہ مجموعی طور پر ٹرن آؤٹ تسلی بخش تھا۔
حریف امیدوار کے کارکنوں پر ہراسانی کا الزام
امیر جماعت اسلامی نے الزام لگایا کہ منی پور ہائی اسکول (گرلز سیکشن) کے پولنگ اسٹیشن میں مخالف امیدوار کے کارکنان زبردستی داخل ہوئے اور ووٹرز کو خوفزدہ کیا۔
After casting his vote at the Monipur High School (Boys' Branch) in Dhaka-15 (60 Feet), Jamaat Ameer Dr. Shafiqur Rahman(@Drsr_Official) exchanged greetings with voters and held a press briefing.#BDElection26 pic.twitter.com/HByNZSix9L
— Basherkella – বাঁশেরকেল্লা (@basherkella) February 12, 2026
انہوں نے کہا کہ اس مرکز میں تقریباً 26 ہزار ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ اچانک ہمارے حریف جماعت کے کچھ افراد بے قابو انداز میں اندر داخل ہوئے، انہوں نے ووٹرز کو ڈرایا دھمکایا اور ہمارے حامیوں کو جسمانی طور پر ہراساں کیا۔
فوجی افسر کی مداخلت
انہوں نے بتایا کہ اطلاع ملنے پر وہ خود مرکز پہنچے جہاں ایک فوجی افسر صورتحال سنبھال رہے تھے۔
ہم نے دیکھا کہ ایک فوجی افسر نہایت ذمہ داری سے معاملات کو کنٹرول کر رہے تھے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ صورتحال قابو میں ہے۔‘
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ووٹنگ ختم ہونے کے بعد صرف متعلقہ سرکاری اہلکاروں اور امیدواروں کے ایجنٹس کو ہی مرکز میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے اور باہر غیر ضروری ہجوم یا کشیدگی کو روکا جائے۔
پرامن ووٹنگ کی خواہش
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ووٹنگ پُرامن ہو اور ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق ووٹ ڈال سکے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مختلف علاقوں میں بی این پی امیدواروں کے کارکنوں نے مسائل پیدا کیے۔
Listen to Dr Shafiqu Rahman #bangladesh#Election#Rohingya pic.twitter.com/2ZupdhqVuV
— Arakan Rohingya Army-English Edition (@Arakaninews24) February 12, 2026
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ اگر ووٹوں کی گنتی کے دوران بدامنی ہوئی تو نتائج عوامی امنگوں کی عکاسی نہیں کریں گے۔
دوپہر تقریباً 2:15 بجے انہوں نے کہا کہ عوام کی مسلسل آمد کو دیکھتے ہوئے وہ پُرامید ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ٹرن آؤٹ مزید بہتر ہو سکتا ہے۔













