پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے واضح کیا ہے کہ 5G اسپیکٹرم کی نیلامی مکمل ہونے کے بعد آپریٹرز اپنے اسپیکٹرم ہولڈنگز میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا لین دین نہیں کرسکتے۔ نیلامی کے نتائج حتمی ہوں گے اور بعد از نیلامی کوئی اضافی ایڈجسٹمنٹ یا ٹریڈنگ کی سہولت فراہم نہیں کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومتِ پاکستان نے 5G اسپیکٹرم نیلامی کے لیے بنیادی قیمتوں کی منظوری دے دی
اس فیصلے کے ذریعے وہ تجاویز مسترد کر دی گئی ہیں جن میں آپریٹرز کو نیلامی کے بعد اپنے اسپیکٹرم ہولڈنگز میں لچک دینے کی سہولت فراہم کرنے کا کہا گیا تھا۔ مشاورت کے دوران کچھ اسٹیک ہولڈرز نے خبردار کیا تھا کہ بڈنگ کے دوران طلب میں تبدیلی کی وجہ سے کچھ بڈرز غیر معاشی یا ٹکڑے ٹکڑے اسپیکٹرم ہولڈنگز میں پھنس سکتے ہیں۔

اسٹیک ہولڈرز نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے انہوں نے نیلامی کے بعد یا اسائنمنٹ سے پہلے کسی قسم کی ٹریڈنگ ونڈو یا مشابہہ میکانزم متعارف کرانے کی تجویز دی تھی تاکہ آپریٹرز اپنے اسپیکٹرم پورٹ فولیوز کو بہتر بنا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: 5G اسپیکٹرم نیلامی کی تیاری مکمل، جدید بینڈز پہلی بار دستیاب، وفاقی وزیر آئی ٹی کی پریس کانفرنس
تاہم پی ٹی اے نے واضح کیا کہ ٹریڈنگ ونڈو نیلامی کے فریم ورک کا حصہ نہیں ہے اور شامل نہیں کی جائے گی۔ اتھارٹی نے کہا کہ اسپیکٹرم کی الاٹمنٹ اور اسائنمنٹ کے موجودہ مراحل ہی مؤثر نتائج فراہم کرنے کے لیے کافی ہیں اور کسی اضافی ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت نہیں۔
پی ٹی اے نے واضح کیا کہ اسپیکٹرم کی کیپنگ قواعد پوری نیلامی کے دوران نافذ رہیں گے، چاہے کچھ اسپیکٹرم لیٹس فروخت نہ ہوں۔ موجودہ کیپ، جو کہ انٹرنیشنل موبائل ٹیلی کمیونیکیشنز (IMT) اسپیکٹرم کے لیے 348.5 میگا ہرٹز ہے، بڈنگ کے دوران برقرار رہے گی اور بعد از نیلامی کی پالیسی الگ سے طے کی جائے گی۔














