پاکستانی پارلیمانی وفد نیویارک پہنچ گیا، چیئرمین سینیٹ کی قیادت میں آئی پی یو سماعت میں شرکت

جمعرات 12 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

پاکستانی پارلیمانی وفد، جس کی قیادت چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کر رہے ہیں، اقوام متحدہ ہیڈکوارٹر پہنچ گیا ہے تاکہ 12 اور 13 فروری کو منعقد ہونے والی 2026 آئی پی یو پارلیمانی سماعت (IPU Parliamentary Hearing) میں شرکت کرے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی سے خطے کو سنگین خطرات لاحق، اقوام متحدہ

وفد 2 روزہ سماعت کے مختلف اجلاسوں میں حصہ لے گا اور افتتاحی اجلاس میں چیئرمین سینیٹ قومی بیان بھی پیش کریں گے۔ 6 رکنی پاکستانی پارلیمانی ٹیم آئی پی یو پارلیمانی سماعت میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ہے۔

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی افتتاحی اجلاس میں قومی بیان دیں گے، جس کا موضوع ہے: ’اقوام متحدہ کے 80 سال: تعاون اور شراکت داری کے ذریعے اعتماد اور مقصد کی تجدید‘۔

یہ بھی پڑھیں:تعلیم قومی ترقی، سماجی انصاف اور جمہوری استحکام کی بنیاد ہے، یوسف رضا گیلانی

اس دوران چیئرمین سینیٹ صدر جنرل اسمبلی اور صدر آئی پی یو سے بھی ملاقات کریں گے۔ وفد دو روزہ سماعت کے دوران مختلف اجلاسوں میں شریک ہو کر پارلیمانی امور اور بین الاقوامی تعاون پر تبادلۂ خیال کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

برطانیہ میں 35 ممالک کی ملاقات، آبنائے ہرمز کھولنے پر غور

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج ہلاک

سپریم کورٹ کا مطیع اللہ جان کے مقدمے میں اہم حکم، ٹرائل کورٹ کو فردِ جرم عائد کرنے سے روک دیا

ایران پر حملے جاری رکھنے کے اعلان کے بعد اسٹاک مارکیٹ مندی کی نذر

وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس، صوبے میں مفت علاج اور صحت کے 4 بڑے منصوبوں کا جائزہ

ویڈیو

سعودی عرب سے ترسیلات اور حجاز مقدس سے متعلق شہریوں کے خیالات

حج اور عمرہ کی یادیں جو آنکھوں کو نم کر دیں

پیغام پاکستان بیانیہ، محراب و منبر کی اصلاح اور عدالتی انصاف شدت پسندی ختم کر سکتا ہے: علّامہ عارف الواحدی

کالم / تجزیہ

’میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘

ہز ماسٹرز وائس

ایران یا سعودی عرب: پاکستان کو مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے؟