کوئی پوشیدہ منصوبہ بندی نہیں، نجی ذرائع کے اعدادو شمار سرکاری نہیں، چیف الیکشن کمشنر بنگلہ دیش

جمعہ 13 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

بنگلہ دیش کے چیف الیکشن کمیشنر (CEC) ای ایم ایم ناصرالدین نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے شفاف اور قابل اعتماد انتخابات کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ناصرالدین نے واضح کیا کہ ٹی وی یا دیگر نجی ذرائع پر جاری کیے جانے والے اعداد و شمار سرکاری یا حتمی نتائج نہیں ہیں اور صرف وہ نتائج قانونی حیثیت رکھتے ہیں جو ریٹرننگ آفیسرز کی دستخط شدہ گزٹ میں شائع ہوں۔ انہوں نے عوام اور میڈیا کو یقین دلایا کہ کوئی پوشیدہ ایجنڈا یا ہیر پھیر نہیں ہے اور تمام مراحل شفاف طور پر مکمل کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش عام انتخابات 2026: بھرپور ٹرن آؤٹ، ’اسٹیجڈ الیکشن‘ کا دور ختم، چیف الیکشن کمشنر

ڈھاکہ میں ای سی آفس آگراگون میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم کے غیر سرکاری نتائج کے اعلان کی تقریب کے دوران ناصرالدین نے کہا کہ عوام دیکھیں، میڈیا دیکھے، ہم چاہتے ہیں کہ ہر کوئی جان لے کہ یہاں کچھ چھپانے کو نہیں ہے۔ ہم نے مکمل شفاف انتخابات کرانے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ابتدائی نتائج کے اعلان کی رفتار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کچھ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ پہلے 2 گھنٹوں میں 8 فیصد نتائج اور اگلے 2 گھنٹوں میں 25 فیصد نتائج کیسے اعلان کیے گئے۔ یاد رکھیں، ہمارے پاس 42,500 پولنگ مراکز ہیں اور ہم صرف انہی مراکز سے موصول شدہ ڈیٹا کی بنیاد پر نتائج اعلان کر رہے ہیں۔

سی ای سی نے کہا کہ جیسے جیسے مزید ڈیٹا موصول ہوگا، نتائج میں اتار چڑھاؤ آنا فطری ہے۔ یہ کوئی ہیر پھیر یا پوشیدہ منصوبہ بندی نہیں، صرف حساب کا معاملہ ہے۔ ہم صرف موصولہ اعداد و شمار جمع کر کے اعلان کر رہے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کمیشن کا مقصد قوم کے سامنے قابل اعتماد انتخابات پیش کرنا تھا اور انہیں یقین ہے کہ یہ کامیاب ہوا ہے، جس کی تصدیق صحافیوں سمیت سب نے کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ووٹ ڈالیں اور جمہوری نتائج کا احترام کریں، بنگلہ دیشی چیف الیکشن کمشنر کی عوام سے اپیل

ناصرالدین نے انتخابات کے حجم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک 180 ملین افراد کا ہے، جس میں 127 ملین ووٹرز ہیں۔ ریفرنڈم سمیت 200 ملین بیلٹ پرنٹ اور تقسیم کیے گئے، لہذا کچھ محدودیتیں فطری ہیں۔

انہوں نے میڈیا، سیاسی رہنماؤں، جماعتوں، ووٹرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ تقریباً 1.7 ملین افراد نے انتخابات کے انعقاد میں حصہ لیا، جن میں سے 900,000 قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تھے۔ بہت سے ممالک میں اتنے عملے کی دستیابی بھی نہیں ہے۔ سب کے تعاون سے ہم نے ایک منصفانہ انتخابات ممکن بنایا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ کوئی بھی انتخابات مکمل طور پر بے عیب نہیں ہوتا۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ یہ بے عیب تھا، دنیا کے کسی بھی ملک میں انتخابات مکمل بے عیب نہیں ہوتے۔ حتیٰ کہ امریکہ میں بھی مسائل پیش آتے ہیں۔ لیکن کسی بھی معیار سے دیکھا جائے تو یہ اچھا اور قابل قبول انتخابات تھا۔

آخر میں سی ای سی نے یاد دلایا کہ سرکاری نتائج صرف وہ ہوں گے جو ریٹرننگ آفیسرز کی دستخط شدہ گزٹ میں شائع ہوں۔ نجی ذرائع ٹی وی پر اعداد و شمار شئیر کر سکتے ہیں، لیکن وہ سرکاری نہیں ہیں۔ صرف وہ نتائج اعلان کیے جائیں گے جو ہمیں باضابطہ طور پر موصول ہوں۔ گزٹ حتمی اور سرکاری دستاویز ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

افریقہ کی منڈیوں میں داخلے کا سنہری موقع، یوگنڈا کی پاکستان کو 25 سال تک ٹیکس چھوٹ سرمایہ کاری کی پیشکش

صومالی قزاقوں کو تاوان ادا نہیں کریں گے، پاکستان عالمی قوانین کا پابند ہے، اسحاق ڈار

ملک کے مختلف علاقوں میں 30 اگست سے 4 ستمبر تک بارشوں کی پیشگوئی، الرٹ جاری

وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کا بند راستے کھولنے اور انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا اعلان، گرین بس سروس کا افتتاح کردیا

بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کے نائیکوپ فعال، ویزے کا بھی کوئی مسئلہ نہیں، تحریک انصاف کا منفی پروپیگنڈا بے نقاب

ویڈیو

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں